خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 419
خطبات مسرور جلد ششم 419 خطبہ جمعہ فرموده 10 اکتوبر 2008 اور پھر اب آپ کے بعد یہ عہد خلافت احمدیہ کے ساتھ بھی ہے۔ہمیں نبھانا ہوگا کہ ہر معروف فیصلہ جو خلیفہ وقت دے گا وہ مانوں گا۔اور جب خلافت پر یقین ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا انعام ہے تو خلافت کی طرف سے کیا گیا ہر فیصلہ قرآن وسنت کے مطابق اور معروف فیصلہ ہی ہوگا۔پس میں نے مختصر یہ ذکر کیا ہے اس عہد کا جو تقویٰ کی شرط ہے اور تقویٰ میں بڑھنے کے لئے ضروری ہے اور اس عہد کی تکمیل کرتے ہوئے جب ہم عبادت کے لئے مسجدوں میں جائیں گے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے۔کہ يبنى آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ (سورۃ الاعراف :32) کہ اے ابنائے آدم ہر مسجد میں اپنی زینت کے یعنی لباس تقویٰ کے ساتھ جایا کرو۔اپنی زینت سے مراد تو یہی لباس تقویٰ ہے، جیسا کہ میں نے ترجمہ میں پڑھا ہے جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔اگر ہم ان شرائط پر غور کریں جو بیعت کی ہیں۔جن کا خلاصہ میں نے ابھی بیان کیا ہے اور جس پر پابندی کا ہم عہد کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہوئے جب ہم خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے جھکیں گے اور جھکنے کے لئے مسجدوں میں جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والے بنیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” اگر بار بار اللہ کریم کا رحم چاہتے ہو تو تقویٰ اختیار کرو اور وہ سب باتیں جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی ہیں چھوڑ دو۔جب تک خوف الہی کی حالت نہ ہو تو تب تک حقیقی تقویٰ حاصل نہیں ہوسکتا۔کوشش کرو کہ متقی بن جاؤ۔جب وہ لوگ ہلاک ہونے لگتے ہیں جو تقویٰ اختیار نہیں کرتے تب وہ لوگ بچائے جاتے ہیں جو تقی ہوتے ہیں۔انسان اپنی چالا کیوں ، شرارتوں اور غداریوں کے ساتھ اگر بچنا چاہے تو ہر گز نہیں بچ سکتا۔فرمایا یا د رکھو کہ دعائیں منظور نہیں ہوں گی جب تک تم متقی نہ ہو اور تقوی اختیار کرو۔تقویٰ کی دو قسم ہیں ایک علم کے متعلق اور دوسر اعمل کے متعلق۔فرمایا "علوم دین نہیں آتے اور حقائق و معارف نہیں کھلتے جب تک متقی نہ ہو۔پس اپنی عبادتوں کی قبولیت کے لئے ہمیں تقویٰ پر قدم مارنا ہوگا۔فرمایا اور عمل کے متعلق یہ ہے کہ نماز ، روزہ اور دوسری عبادات اس وقت تک ناقص رہتی ہیں جب تک متقی نہ ہو۔پس اپنی عبادتوں کی قبولیت کے لئے ہمیں تقویٰ پر قدم مارنا ہوگا اور تقویٰ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہد اور امانتوں کو جب ہم پورا کریں گے۔تب ہمارے اندر پیدا ہوگا اور بندوں سے کئے گئے عہد اور امانتیں بھی ہم نے پوری کرنی اور لوٹانی ہیں۔تب ہم تقویٰ پر صحیح قدم مارنے والے ہوں گے۔تب ہم ان راہوں پر چلنے والے ہوں گے جو خدا تعالیٰ کے قرب کی طرف لے جانے والی راہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتے ہوئے اپنی مسجدوں کا حق ادا کرنے والے ہوں گے اور مسجدوں کے حق ادا کرنے میں خالص ہو کر اس کی عبادت کرنے کے ساتھ اسلام کا پیغام پہنچانا بھی ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی فرمایا کہ اس کے ذریعہ سے تبلیغ کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔