خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 418 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 418

418 خطبہ جمعہ فرموده 10 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم پھر دوسری شرط میں تمام وہ برائیاں آگئیں جو انسان کو روزمرہ کے معاملات میں پیش آتی رہتی ہیں اور ایک مومن کا ان سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔یعنی جھوٹ ہے، بد نظری ہے، زنا ہے۔اب زنا صرف یہی نہیں کہ ضرور عملی طور پر زنا کیا جائے ، گندے خیالات کا ذہن میں بار بار آنا اور ان سے ذہنی حظ اٹھانا بھی ایک زنا کی قسم ہے۔پھر فستق و فجور ہے۔ہر ایسی حرکت جس سے معاشرے میں فتنہ وفساد پھیلے فسق و فجور میں شامل ہیں۔ظلم ہے، خیانت ہے، فساد ہے ، بغاوت ہے ، چاہے وہ حکومتی نظام کے خلاف ہو، چاہے جماعتی نظام سے متعلق باتیں کی جائیں۔اس کے علاوہ غلط باتوں کے لئے بھی جب بھی نفس کسی بھی انسان کو ابھارے اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم بچیں گے۔پھر تیسری شرط میں پانچ وقت کی نمازیں ہیں۔اللہ اور رسول اللہ کے حکم کے مطابق ان کو ادا کرنا ہے اور اب مسجد کی تعمیر کے بعد تو خاص طور پر آپ کو اس بات کی یاد دہانی ہوتی رہنی چاہئے اور پھر تقوی میں بڑھنے کے لئے صرف فرض نمازیں ہی نہیں۔فرمایا کہ تہجد پڑھنے کی طرف بھی توجہ ہو ، آنحضرت ﷺ کی طرف درود بھیجنے کی طرف بھی توجہ رہے کیونکہ ہماری دعاؤں کی قبولیت کے لئے اللہ تعالیٰ نے وسیلہ آنحضرت ﷺ کی ذات کو بنایا ہے اگر درود نہیں تو دعا ئیں بھی بے فائدہ ہیں اور یہی ذریعہ ہے جس سے ہماری تبلیغ بھی کامیابی کی منزلیں طے کرے گی۔یہ درود ہی ہے جو ہماری روحانی حالتوں کو ترقی کی طرف لے جائے گا۔پھر استغفار میں باقاعدگی ہے۔اللہ تعالیٰ کے احسانوں پر اس کی حمد اور تعریف ہے۔چوتھی شرط یہ کہ عام طور پر تمام انسانوں، اللہ کے تمام بنی نوع انسان اور خاص طور پر مسلمانوں کو نفسانی جوشوں سے، جوش، غصے، اور غضب سے تکلیف نہیں پہنچانی۔اگر اس پر عمل شروع ہو جائے تو تمام ذاتی رنجشیں دور ہو جائیں اور یہ دنیا بھی جنت نذیر بن جائے۔پھر پانچویں شرط یہ کہ ہر حال میں خدا تعالیٰ سے وفا کا تعلق رکھنا ہے۔جو کچھ حالات ہو جائیں اللہ تعالیٰ سے تعلق نہیں چھوڑنا۔چھٹی شرط یہ کہ تمام دنیاوی خواہشات کو ختم کر کے وہی عمل کرنا ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے۔ساتویں بات یہ کہ تکبر اور خود پسندی کو مکمل طور پر ترک کرنا ہے۔عاجزی اور دوسروں سے ہمیشہ نرمی اور خوش خلقی سے پیش آنا ہے۔پھر ایک عہد یہ ہم نے کیا ہے کہ اسلام اور اسلام کی عزت اپنی جان، اپنے مال ، اپنی اولاد سے زیادہ کریں گے۔اور نویں بات یہ کہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ انسانیت کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہوگی۔اور آخری بات یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کامل اطاعت کا تعلق ہوگا اور اس کے ساتھ محبت بھی ایسی ہوگی کہ کسی دوسرے رشتے میں وہ محبت نہ ہو۔