خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 417 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 417

417 خطبہ جمعہ فرموده 10 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم استعمال میں لاناضروری ہے۔لیکن ہمیشہ یادرکھو کہ لباس تقویٰ ہی اصل چیز ہے۔اس کی طرف اگر تمہاری نظر رہے گی تو ظاہری لباس، رکھ رکھاؤ اور زینت کے لئے بھی تم اس طرح عمل کرو گے جس طرح خدا تعالیٰ کا حکم ہے اور جس طرح تمہارے باپ آدم نے اپنے آپ کو ڈھانکنے کی کوشش کی تھی جب شیطان نے اسے بہکایا تھا۔پس آدم کی اولا د کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف ، اس کی خشیت اور تقویٰ ہر وقت پیش نظر رہے گا اور استغفارا اور تو بہ اور دعاؤں سے اس کی حفاظت کی کوشش کرتے رہو گے تو دنیا میں جو بے انتہا لغویات ہیں ان سے بھی بچ کر رہو گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے، چنانچہ لباسُ التَّقُوای قرآن شریف کا لفظ ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے۔یعنی ان کے دقیق دردقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 210) یعنی گہرے سے گہرے مطلب بار یک مطلب کو تلاش کرے اور پھر عمل کرنے کی کوشش کرے۔آپ فرماتے ہیں : ”ہماری جماعت کو لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہر ایک ان میں سے تقویٰ کی راہوں پر قدم مارے تا کہ قبولیت دعا کا سرور اور حظ حاصل کرے اور زیادتی ایمان کا حصہ لے“۔پس یہ کم از کم معیار ہے جو ہمارا ہونا چاہئے کہ تقویٰ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا ہے کہ ہماری زینت ظاہری لباسوں، دولت کو جمع کرنے یا اعلی گھر بنانے اور ان کو صرف سجانے میں نہیں ہے بلکہ اصل زینت جو روحانی زینت ہے۔اس لباس سے ہے جو تقویٰ کا لباس ہے اور یہی ایک احمدی کا طمح نظر ہونا چاہئے۔اور یہ لباس تقوی کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ اللہ سے کئے گئے عہد کا پورا حق ادا کرتے ہوئے اور بندوں کے حقوق بھی صحیح طرح ادا کر ایک احمدی کے لئے یہ حق ادا کرنے کا کیا طریق ہے، اس کے لئے ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شرائط بیعت کی صورت میں لائحہ عمل رکھ دیا ہے۔ہم نے یہ عہد بھی کیا ہے کہ ہم ان شرائط کے پابند رہنے کی حتی الوسع کوشش بھی کرتے رہیں گے۔تو اس پہ پھر کوشش کرنی چاہئے۔پہلی شرط مختصر امیں بتا دیتا ہوں۔یہ کہ کسی بھی حال میں شرک نہیں کرنا۔اب شرک ظاہری بھی ہے اور مخفی بھی ہے۔روز مرہ کی بہت سی مصروفیات میں ہمیں خدا تعالیٰ کی عبادت سے غافل کر دیتی ہیں۔لیکن ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری اصل زینت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہے۔ہمارا حقیقی مفاد اس میں ہے کہ ہم ان مخفی شرکوں سے بچیں جو آئے دن ہمارے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔