خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 406
406 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 3 اکتوبر 2008 خیال دل میں گزرا کہ ان کی وفات ہمارے لئے بہت سے مصائب کا موجب ہوگی۔کیونکہ وہ رقم کثیر آمدنی کی ضبط ہو جائے گی جوان کی زندگی سے وابستہ تھی۔اس خیال کے آنے کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا الَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے۔تب وہ خیال یوں اڑ گیا جیسا کہ روشنی کے نکلنے سے تاریکی اڑ جاتی ہے اور اسی دن غروب آفتاب کے بعد میرے والد صاحب فوت ہو گئے۔جیسا کہ الہام نے ظاہر کیا تھا۔اور جو الہام اليْسَ اللهُ بكَافٍ عَبْدَہ ہوا تھا۔وہ بہت سے لوگوں کو قبل از وقت سنایا گیا جن میں سے لالہ شرمیت مذکور اور لالہ ملا وامل مذکور، کھتریان ساکنان قادیان ہیں اور جو حلفاً بیان کر سکتے ہیں اور پھر مرزا صاحب مرحوم کی وفات کے بعد وہ عبارت الہام ایک نگین پر کھدوائی گئی اور اتفاقا اسی ملا و امل کو جو کسی کام کے لئے امرتسر جا تا تھا وہ عبارت دی گئی۔( وہ جو انگوٹھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہے، اس پر کھدوائی اور بعد میں وہ بھی اب تک چل رہی ہے، خلافت کے حصہ میں آئی) کہ تا وہ نگین کھدوا کر اور مہر بنوا کر لے آئے۔چنانچہ وہ حکیم محمد شریف مرحوم امرتسری کی معرفت بنا کر لے آیا جواب تک میرے پاس موجود ہے۔جو اس جگہ لگائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے الْيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَہ۔اب ظاہر ہے کہ اس پیشگوئی میں ایک تو یہی امر ہے کہ جو پورا ہوا یعنی یہ کہ الہام کے ایماء کے موافق میرے والد صاحب کی وفات قبل از غروب آفتاب ہوئی۔باوجود اس کے کہ وہ بیماری سے صحت پاچکے تھے اور قوی تھے اس کی عبارت میں کچھ آثار موت ظاہر نہ تھے اور کوئی بھی نہیں کہ سکتا تھا کہ وہ ایک برس تک بھی فوت ہو جائیں گے۔لیکن مطابق منشاء الہام سورج کے ڈوبنے کے بعد انہوں نے انتقال فرمایا۔( صحت تو ایسی اچھی تھی کہ سال تک بھی کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ فوت ہوں گے۔لیکن سورج ڈوبنے کے وقت تک فوت ہو گئے ) اور پھر دوسر الہام یہ پورا ہوا کہ والد مرحوم و مغفور کی وفات سے مجھے کچھ دنیوی صدمہ نہیں پہنچا جس کا اندیشہ تھا۔بلکہ خدائے قدیر نے مجھے اپنے سایہ عاطفت کے نیچے ایسا لے لیا کہ ایک دنیا کو حیران کیا اور اس قدر میری خبر گیری کی اور اس قدر وہ میرا متولی اور متکفل ہو گیا کہ باوجود اس کے کہ میرے والد صاحب مرحوم کے انتقال کو 24 برس آج کی تاریخ تک جو 20 اگست 1899ء اور ربیع الثانی 1317ھ ہے گزر گئے ہر ایک تکلیف اور حاجت سے مجھے محفوظ رکھا اور یہ ظاہر ہے کہ میں اپنے والد کے زمانے میں گمنام تھا۔خدا نے ان کی وفات کے بعد لاکھوں انسانوں میں مجھے عزت کے ساتھ شہرت دی اور میں والد صاحب کے زمانے میں اپنے اقتدار اور اختیار سے کوئی مالی قدرت نہیں رکھتا تھا اور خدا تعالیٰ نے ان کے انتقال کے بعد اس سلسلے کی تائید کے لئے اس قدر میری مدد کی اور کر رہا ہے کہ جماعت کے درویشوں اور غریبوں اور مہمانوں اور حق کے طالبوں کی خوراک کے لئے جو ہر ایک طرف سے صد ہا بندگان خدا آ رہے ہیں اور نیز تالیف کے کام کے لئے ہزار ہاروپیہ بہم پہنچایا اور ہمیشہ پہنچاتا ہے۔اس بات کے گواہ اس گاؤں کے تمام مسلمان اور ہندو ہیں جو دو ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 198-199)