خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 26

خطبات مسرور جلد ششم 26 خطبه جمعه فرموده 11 جنوری 2008 جین میں فرمایا گیا تھا۔اور آیت فَرْعُهَا فِی السَّمَاءِ کے متعلق ایک بات ذکر کرنے سے رہ گئی کہ کمال اس تعلیم کا باعتبار اس کے انتہائی درجہ ترقی کے کیونکر ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن شریف سے پہلے جس قدر تعلیمیں آئیں در حقیقت وہ ایک قانون مختص القوم یا مختص الزمان کی طرح تھیں اور عام افادہ کی قوت اُن میں نہیں پائی جاتی تھی۔بعض قوموں کے لئے تھیں یا بعض زمانوں کے لئے تعلیمیں تھیں اور ہر ایک کے لئے اُن میں فائدہ نہیں تھا۔لیکن قرآن کریم تمام قوموں اور تمام زمانوں کی تعلیم اور تکمیل کیلئے آیا ہے۔مثلاً نظیر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت موسٹی کی تعلیم میں بڑ از ورسزاد ہی اور انتقام میں پایا جاتا ہے جیسا کہ دانت کے عوض دانت اور آنکھ کے عوض آنکھ کے فقروں سے معلوم ہوتا ہے۔اور حضرت مسیح کی تعلیم میں بڑا ز ور عفو اور درگز ر پر پایا جاتا ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ یہ دونوں تعلیمیں ناقص ہیں۔نہ ہمیشہ انتقام سے کام چلتا ہے نہ ہمیشہ عفو سے بلکہ اپنے اپنے موقع پر نرمی اور درشتی کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے وَجَزَاؤُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجُرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری: 41) یعنی اصل بات تو یہ ہے کہ بدی کا عوض تو اسی قدر بدی ہے جو پہنچ گئی ہے۔لیکن جو شخص عفو کرے اور عفو کا نتیجہ کوئی اصلاح ہو نہ کہ کوئی فساد۔یعنی عضو اپنے محل پر ہو، نہ غیر محل پر۔پس اجر اس کا اللہ پر ہے یعنی یہ نہایت احسن طریق ہے۔عفو سے فساد کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً اگر ایک عادی چور ہے اس کو عفو کرتے ہوئے چھوڑ دیں گے تو وہ پھر دوبارہ چوری کرے گا کسی دوسرے کو نقصان پہنچائے گا۔اس سے مزید گناہ پھیلنے کا اندیشہ ہے اس لئے وہ عفو فساد میں آتا ہے۔فرمایا کہ: ” اب دیکھئے اس سے بہتر اور کون سی تعلیم ہوگی کہ عضو کو عفو کی جگہ اور انتقام کو انتقام کی جگہ رکھا۔اور پھر فرمایا انَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُرُبَى ( أحل: 91) یعنی اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو۔اور عدل سے بڑھ کر یہ ہے کہ باوجود رعایت عدل کے احسان کرو۔اور احسان سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم ایسے طور سے لوگوں سے مروت کرو“ پیار سے پیش آؤ کہ جیسے کہ گویا وہ تمہارے پیارے اور ذوالقربیٰ ہیں۔اب سوچنا چاہیئے کہ مراتب تین ہی ہیں۔اول انسان عدل کرتا ہے یعنی حق کے مقابل حق کی درخواست کرتا ہے۔پھر اگر اس سے بڑھے تو مرتبہ احسان ہے۔اور اگر اس سے بڑھے تو احسان کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے اور ایسی محبت سے لوگوں کی ہمدردی کرتا ہے جیسے ماں اپنے بچہ کی ہمدردی کرتی ہے۔یعنی ایک طبعی جوش سے نہ کہ احسان کے ارادہ سے“۔(جنگ مقدس پر چہ 25 رمئی 1893ء روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 123-127) آپ فرماتے ہیں کہ : ایسی کامل کتاب کے بعد کس کتاب کا انتظار کریں جس نے سارا کام انسانی اصلاح کا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پہلی کتابوں کی طرح صرف ایک قوم سے واسطہ نہیں رکھا بلکہ تمام قوموں کی اصلاح چاہی اور