خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 403 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 403

403 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 3 اکتوبر 2008 قادیان بھی آیا تھا کہ میری بیعت لے لیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قبول نہیں کی تھی ، پتہ لگ گیا تھا کہ یہ کیسا ہے۔ڈاکٹر مارٹن کلارک ایک مشنری ڈاکٹر تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مخالفین میں سے تھے، کیونکہ عیسائیت کی غلط تعلیم کے خلاف آپ ہر وقت آواز اٹھاتے تھے اور حضرت عیسی علیہ السلام کا بطور نبی صحیح مقام آپ بتایا کرتے تھے۔تو بہر حال مختصر یہ کہ اس مقدمہ میں تمام مخالفین کی طرف سے مخالفت اور مکر کی انتہا کی گئی۔یہاں تک کہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب بھی اس وقت عیسائیوں کی حمایت میں کھڑے ہو گئے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلے سے خبر دے دی تھی کہ اس کے فضل سے آپ محفوظ رہیں گے۔چنانچہ ڈگلس صاحب جو مجسٹریٹ تھے انہوں نے تمام حقائق جاننے کے بعد آپ کو باعزت بری کیا۔اللہ تعالیٰ کس طرح اپنوں کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے گواہ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے اور حفاظت فرماتا ہے اس کی روداد و گلس صاحب کی زبان سے ہی سن لیں۔راجہ غلام حیدر صاحب جو احمدی نہیں تھے ، وہاں عدالت میں کام کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ فیصلے سے پہلے جج صاحب نے سفر کرنا تھا وہ بڑی پریشانی سے سٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہل رہے تھے۔تو میں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے پریشان کیوں ہیں اتنے ؟ کہنے لگے کچھ نہ پوچھو۔آخر زور دینے پر بتایا کہ جب سے مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہے اس وقت سے مجھے یوں نظر آتا ہے کہ کوئی فرشتہ مرزا صاحب کی طرف ہاتھ اٹھا کے مجھ سے کہہ رہا ہے کہ مرزا صاحب گناہگار نہیں ، ان کا کوئی قصور نہیں۔غرض جج نے اس کے بعد پھر طریق تحقیق بدلا ملزم کو بجائے ان لوگوں کے پاس رکھنے کے پولیس کے حوالے کیا تو حق ظاہر ہو گیا۔اسی طرح باقی مقدمات جودشمن نے اپنے زعم میں آپ کو ذلیل و رسوا کرنے کے لئے کئے تھے خود اُن میں ناکام و نامرادر ہا اور اللہ تعالیٰ جس طرح آپ کو پہلے بریت کی خبر دیتا رہا تھا ہر جگہ سے سرخرو فرمایا۔مارٹن کلارک والے مقدمہ کے بارہ میں حضرت خلیفہ مسیح الثان رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جب پادری مارٹن کلارک نے مقدمہ کیا تو میں نے گھبرا کر دعا کی ، رات کو رویا میں دیکھا کہ میں سکول سے آ رہا ہوں اور اس گلی میں جو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکانات کے نیچے ہے ( قادیان کا ذکر ہے ) اپنے مکان میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہوں وہاں مجھے بہت سی باوردی پولیس دکھائی دیتی ہے۔پہلے تو ان میں سے کسی نے مجھے اندر داخل ہونے سے روکا ، ( یہ خواب کا ذکر چل رہا ہے ) مگر پھر کسی نے کہا کہ یہ گھر کا ہی آدمی ہے اسے اندر جانے دینا چاہئے۔جب ڈیوڑھی میں داخل ہو کر اندر جانے لگا ( یعنی باہر کا جو دروازہ تھا اس سے داخل ہو کر اندر جانے لگا ) تو وہاں ایک نہ خانہ ہوا کرتا تھا جو ہمارے دادا صاحب مرحوم نے بنایا تھا۔ڈیوڑھی کے ساتھ سیڑھیاں تھیں جو اس تہ خانے میں اترتی تھیں بعد میں یہاں صرف ایندھن ( یعنی لکڑی وغیرہ جلانے کے لئے رکھی جاتی تھی) اور پیپے پڑے رہتے تھے۔جب میں گھر میں داخل ہونے