خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 399 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 399

399 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 ستمبر 2008 توجہ دلا کر پھر یہ جو فر مایا کہ اس پیدائش پر غور کرنے والے کہتے ہیں کہ سُبحنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔تُو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔یہ اس لئے ہے کہ جو کچھ زمین و آسمان میں پیدا کیا گیا ہے وہ سب اللہ کی مخلوق ہے۔ہماری زندگی کے تمام انحصار اور ذرائع اصل میں اللہ تعالی کے پیدا کردہ ہیں اور جو کچھ زمین وآسمان میں اور اس کے درمیان ہے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔پس جب ہر چیز ہی خدا کی ہے اور خدا کے فضل سے ملتی ہے اور مانی ہے تو خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر اور کسی طرف انسان کس طرح جاسکتا ہے۔اسے شریک بنا ئیں گے تو اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرتا۔اللہ کے مقابلے میں اگر تجارتوں کو شریک بناؤ گے تو معاف نہیں ہوگے۔فرمایا یہ چیزیں پھر آگ کی طرف لے جانے والی ہیں۔اس لئے انسان دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ہر لمحہ ہر آن اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہمیں ہر قسم کے فضلوں سے نواز نے والا ہے۔اس لئے انسان کو کوشش کرنی چاہئے کہ کبھی ایسا موقع اس کی زندگی میں نہ آئے۔اور یہ دعا کرنی چاہئے کہ اے اللہ ! کبھی ہماری زندگی میں ایسا موقع نہ آئے کہ تیرے مقابل پر ہم کوئی چیز لائیں۔یہ دعا ہمیشہ کرنی چاہئے کہ اے اللہ! ہم ہمیشہ تیرے عبادت گزار اور ذکر کرنے والے رہیں تا کہ دین ودنیا میں بھی ذلیل ورسوا نہ ہوں اور آخرت کے عذاب سے بھی بچے رہیں۔پس جب اللہ تعالیٰ ہمیں فرماتا ہے کہ نماز جمعہ کے بعد اس کے فضلوں کو تلاش کرو اور ذکر الہی کرتے رہو تو یہ یاد دہانی ہے کہ تمہارے تمام نفع و نقصان میرے ہاتھ میں ہیں۔پس یہ تمہاری خوش قسمتی ہے کہ میرے سے تعلق جوڑ کر تم روحانی فائدہ بھی اٹھا ر ہے ہو اور دنیاوی فائدہ بھی اٹھا رہے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دوسرا پہلو یہ بیان کیا ہے کہ اولوالالباب اور عقلِ سلیم بھی وہی رکھتے ہیں جو اللہ جل شانہ کا ذکر اٹھتے بیٹھے کرتے ہیں۔یہ گمان نہ کرنا چاہئے کہ عقل و دانش ایسی چیزیں ہیں جو یونہی حاصل ہو سکتی ہیں۔نہیں، بلکہ بچی فراست اور کچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔اس لئے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو۔فرمایا کہ حقیقی دانش کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقوی نہ ہو۔پس یہ بات بھی اگر کسی کے ذہن میں ہے کہ ہم اپنی تجارتوں اور کاروباروں کو اپنی عقلوں سے چلا رہے ہیں تو یہ غلط ہے۔ٹھیک ہے ایک انسان محنت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا قانون قدرت کے تحت پھل دیتا ہے۔ایک دنیا دار جوخدا کو نہیں مانتا یا اس کا خدا سے تعلق نہیں وہ تو اپنی تجارتوں سے، اس دنیاداری سے عارضی فائدہ اٹھارہا ہے۔لیکن ایک احمدی کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ جب زمانہ کے امام کو ہم نے مانا ہے تو پھر ہمارے ہر کام میں برکت تبھی پڑے گی ، ترقی بھی تبھی ملے گی جب خدا تعالیٰ کا ذکر بھی رہے اور ان شرائط کی پابندی بھی رہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہیں اور تقویٰ