خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 374
374 خطبه جمعه فرمودہ 12 ستمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم کو ماننے کی وجہ سے۔ہمارے پیاروں کو شہید کیا جاتا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی وجہ سے۔پس اگر ہم استقامت دکھا ئیں گے، ابتلاؤں سے کامیاب ہو کر گزر جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس وعدے کے بھی حقدار ٹھہریں گے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہامات میں کئی دفعہ فرمایا کہ انا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا : افتح 02) کہ میں ایک عظیم فتح تجھے عطا کروں گا جو کھلی کھلی فتح ہوگی۔پس قوموں کی زندگی میں ابتلاء اور امتحان اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کو دکھانے کے لئے آتے ہیں ، نشانات ظاہر کرنے کے لئے آتے ہیں۔پس صبر اور دعا سے اس کی مدد مانگتے چلے جائیں۔یہ جو شہادتیں ہوئی ہیں اور جس اذیت کے دور سے بعض جگہ جماعت گزر رہی ہے اس کے پیچھے بھی فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا کی آواز میں آرہی ہیں۔خدا دشمنوں کو کبھی خوش نہیں ہونے دے گا۔ان کی خوشیاں عارضی خوشیاں ہیں۔ہر شہادت جو کسی بھی احمدی کی ہوئی ہے، پھول پھل لاتی رہی ہے اور اب بھی انشاء اللہ تعالیٰ پھول پھل لائے گی۔دشمن کی پکڑ کے نظارے ہم نے پہلے بھی دیکھے ہیں اور آج بھی اللہ تعالیٰ کا یہ کلام ہمیں تسلی دلاتا ہے کہ فَاَخَذَهُمُ اللهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللهِ مِنْ وَّاقٍ (المؤمن : 22 ) پس اللہ نے ان کو بھی ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔پس جب ماضی میں اللہ تعالیٰ پکڑتا رہا ہے تو آج بھی وہی زندہ خدا ہے جو ہمارا خدا ہے ، جو ان کو ان کا دردناک انجام دکھائے گا۔پس اللہ ہمارا پیارا خدا سچے وعدوں والا ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدے یقیناً پورے کرے گا جیسا کہ ہم پورے ہوتے دیکھتے آئے ہیں۔اللہ تعالیٰ مومنوں کی تسلی کے لئے فرماتا ہے اور وہ مختلف وقتوں میں نظارے دکھاتارہتا ہے۔ایک ہی بات کئی کئی دفعہ دکھاتا ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی دکھاتا رہے گا۔پس ہمارا کام یہ ہے کہ ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں۔اپنے ان بھائیوں کی خوبیوں کو کبھی مرنے نہ دیں جنہوں نے جماعت سے وفا کے اعلیٰ نمونے دکھاتے ہوئے اپنی جانیں خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیں۔ان شہداء کا اب میں مختصر اذکر بھی کروں گا۔پہلے شہید، ہمارے بہت ہی پیارے بھائی ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی ہیں۔ان کی شہادت 27 مئی کے بعد پہلی شہادت ہے۔یعنی اس عظیم شہید نے بھی اپنی جان خدا تعالیٰ کی راہ میں دے کر یہ ثابت کر دیا کہ خلافت احمدیہ کی دوسری صدی میں بھی ہمارے ایمانوں میں وہی پختگی ہے۔جماعت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لئے ہم اسی طرح تیار ہیں جس طرح گزشتہ 100 سال یا اس سے زائد عرصے میں جماعت قربانیاں دیتی چلی آئی ہے۔یہ شہید جن کی عمر صرف 46 سال تھی۔اپنی جوانی کی شہادت سے یقیناً نو جوانوں میں بھی ایک روح پھونک