خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 370
خطبات مسرور جلد ششم 370 خطبه جمعه فرمودہ 12 ستمبر 2008 کی ہے، ہمیں اپنی قربانیوں کے قائم کرنے کا وہ فہم عطا کیا ہے جس سے ہم ایک نئے جوش اور جذبے سے دین کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔گزشتہ دنوں جب ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب کو شہید کیا گیا تو میں نے یہ نظارہ بھی دیکھا۔زبانی بھی اور تحریری طور پر بھی میرے سامنے یہ اظہار کیا گیا کہ اگر فلاں جگہ جہاں ہم رہتے ہیں خون کی ضرورت ہے یا کسی بھی خطرناک جگہ پر جہاں کسی احمدی کے خون کی قربانی کی ضرورت ہے تو اللہ تعالیٰ ہمیں موقع دے کہ ہم اپنا خون پیش کریں۔پس یہ قربانی کا جذبہ اس لئے ابھر کر سامنے آیا ہے کہ دشمن کو بتائیں کہ اللہ کے آگے جھکنے والوں اور ہر حال میں اس کی رضا پر راضی رہنے والوں کو موتوں کا خوف متاثر نہیں کر سکتا۔کیونکہ ایسے مرنے والوں کے لئے تو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ مردہ نہیں بلکہ دائی زندگی پانے والے ہیں۔پس ایک تو خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے والا اپنے پیچھے رہنے والوں کے لئے مومنوں کے لئے ، ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بن کر ان کو زندہ کر دیتا ہے۔جو اُس کے درجات میں بلندی کی بھی دعا کرتے ہیں اور جو دائگی زندگی ہے اس میں اُس کے درجات بلند ہوتے چلے جاتے ہیں اور یہی ایک مومن کی زندگی کا مقصد ہے کہ اس دنیا میں وہ کام کرے جس سے اخروی زندگی میں فیض پائے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کا واضح طور پر یہ اعلان بھی ہے کہ اللہ کی راہ میں مرنے والا مردہ نہیں بلکہ زندہ ہے کیونکہ وہ فوری طور پر وہ مقام پالیتا ہے جس سے اسے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جاتا ہے۔ہر انسان نے ایک نہ ایک دن مرنا ہے لیکن وہ درجہ جو اعلیٰ حیات کا درجہ ہے ، ایک دم میں ہی ہر ایک کو نہیں مل جائے گا۔ہر شخص جو مرنے والا ہے ایک درمیانی حالت میں اس کو رہنا پڑتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے شہید کے بارے میں فرمایا کہ اسے فوری طور پر اعلیٰ حیات مل جاتی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہید کی چھ خصوصیات ہیں۔نمبر ایک یہ کہ اسے خون کا پہلا قطرہ گرنے کے وقت ہی بخش دیا جائے گا۔دوسرے وہ جنت میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لے گا۔تیسرے اسے قبر کے عذاب سے پناہ دی جائے گی۔چوتھے وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا۔پانچویں اس کے سر پر ایسا وقار کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یا قوت دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔نمبر چھ ، اور اسے اپنے 170 قارب کی شفاعت کا حق دیا جائے گا۔( سنن ترمذی۔کتاب فضائل الجہاد۔باب فی ثواب الشہید حدیث 1663)