خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 355
355 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرمود و 29 اگست 2008 تھی۔ایک جرمن احمدی سے میں نے پوچھا کہ اس دفعہ گزشتہ جلسوں کی نسبت تمہیں کوئی فرق محسوس ہوا ہے؟ تو فوری رڈ عمل اس کا یہ تھا اور اس کا جواب تھا کہ منصب خلافت کا فہم و ادراک اور ایک خاص تعلق زیادہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔یہ عمومی طور پر ہر جگہ نظر آتا ہے اور کہنے لگا کہ میں خود بھی یہ محسوس کرتا ہوں۔خلافت جو بلی کی تیاریوں ، مضامین ،جن کی تیاری کے لئے خلافت کے مضمون کو بہت سارے لوگوں کو گہرائی میں جا کر سمجھنے کا موقع ملا اور پھر اس حوالے سے مختلف تربیتی فنکشنز بھی ہوئے تو ان سب باتوں نے اس طرف خاص توجہ اور تبدیلی پیدا کی ہے۔اللہ تعالیٰ اسے بڑھاتا رہے اور ہر احمدی وہ مقام حاصل کرے جو نیکی اور تقویٰ میں بڑھنے کا مقام ہے، جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت سے توقع کی ہے اور جس کی طرف توجہ دلانے کی خلافت احمد یہ ہمیشہ کوشش کرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رسالہ الوصیت میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: اور چاہئے کہ تم بھی ہمدردی اور اپنے نفسوں کے پاک کرنے سے روح القدس سے حصہ لو کہ بجز روح القدس کے حقیقی تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتی اور نفسانی جذبات کو بکلی چھوڑ کر خدا کی رضا کے لئے وہ راہ اختیار کرو جو اس سے زیادہ کوئی راہ تنگ نہ ہو۔دنیا کی لذتوں پر فریفتہ مت ہو کہ وہ خدا سے جدا کرتی ہیں۔(رساله الوصیّت ، روحانی خزائن جلد 20 صفحه 307) پس یہ تقویٰ کا معیار حاصل کرنے کے لئے جو بھی کوشش کرتا رہے گا وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا مقام پائے گا، اس کے انعامات سے حصہ لینے والا ہوگا۔اس دفعہ جرمنی میں خلافت کے حوالے سے ایک تصویری نمائش کا بھی انہوں نے اہتمام کیا۔وہ بھی ان کی اچھی کوشش تھی۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجموعی طور پر جرمنی کا جلسہ سالانہ بھی خاص برکات لئے ہوئے تھا۔اللہ تعالی تمام کام کرنے والے کارکنان اور کارکنات کو جزا دے۔ان سب کو اخلاص و وفا اور ایمان میں بڑھائے اور وہ تقویٰ میں ترقی کرنے والے ہوں اور اپنے مقصد کو سمجھنے والے ہوں۔اس کے بعد میں آج کل کے بعض حالات کی وجہ سے ایک دعا کی درخواست بھی کرنا چاہتا ہوں۔آج کل ہندوستان کے بعض علاقوں میں احمدیت کی مخالفت نے بڑا زور پکڑا ہوا ہے۔خلافت جوبلی کے حوالے سے حیدر آباد دکن انڈیا میں جو ہمارے جلسے ہو رہے تھے ان میں مخالفین نے بڑا شور مچایا۔تیاریوں کے ابتدائی مراحل میں جلوس اور توڑ پھوڑ کی۔آخر انتظامیہ بے بس ہو گئی اور بعض جگہ جلسے نہیں ہو سکے۔اور پھر گزشتہ دنوں سہارنپور میں احمدیوں کے گھروں پر حملے کئے گئے، احمدیوں کو مارا گیا، سامان کی توڑ پھوڑ کی گئی ، گھروں کو نقصان پہنچایا گیا۔آگ لگانے کی کوشش کی گئی اور یہ سب کام کوئی اور نہیں کر رہا، یہ نہیں کہ ہندو اکثریت کا علاقہ ہے تو ہندو ہی ظلم کر رہے ہوں بلکہ خدا اور اسلام کے نام پر یہ ظلم یہ نام نہاد مسلمان کر رہے ہیں اور