خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 354

354 خطبه جمعه فرموده 29 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم پھر آپ نے ایک جگہ فرمایا: ” جماعت تب بنتی ہے کہ بعض بعض کی ہمدردی کرے۔پردہ پوشی کی جاوے۔جب یہ حالت پیدا ہو تب ایک وجود ہو کر ایک دوسرے کے جوارح ہو جاتے ہیں۔یعنی اعضاء بن جاتے ہیں اور اپنے تیں حقیقی بھائی سے بڑھ کر سمجھتے ہیں“۔پھر آپ نے فرمایا: ”اب تم میں ایک نئی برادری اور نئی اخوت قائم ہوئی ہے۔پچھلے سلسلے منقطع ہو گئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ ئی قوم بنائی ہے جس میں امیر، غریب، بچے، جوان، بوڑھے ہر قسم کے لوگ شامل ہیں۔پس غریبوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے معزز بھائیوں کی قدر کریں اور عزت کریں اور امیروں کا فرض ہے کہ وہ غریبوں کی مدد کریں اور ان کو فقیر اور ذلیل نہ سمجھیں کیونکہ وہ بھی بھائی ہیں“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 265-263 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ ہے وہ تعلیم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں ایک تسلسل سے دی اور یہی وجہ ہے کہ یہ تعلیم آئندہ نسلوں میں منتقل ہوتی چلی جارہی ہے اور ہماری اصلاح بھی ہوتی ہے۔پس جو ایسی تعلیم کے ماننے والے ہوں وہی ہیں جو ایک دوسرے سے محبت اور پیار سے پیش آتے ہیں اور خاص طور پر ایسے موقع پر جب خدا تعالیٰ کی خاطر جمع ہوئے ہوں۔پس ان باتوں کو ہر احمدی کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے تا کہ اخلاق کے معیار بلند ہوتے چلے جائیں اور ہم غیروں کی توجہ جذب کرنے والے بہنیں اور یہی چیز ہماری تبلیغ کا ذریعہ بنے گی۔اس دفعہ عورتوں کے جلسہ گاہ سے بھی عمومی رپورٹ اچھی تھی اور گزشتہ سال جو ان سے شکوہ پیدا ہوا تھا اس کو انہوں نے بڑے اخلاص و وفا سے دھویا۔عورتوں کو اس پابندی کی وجہ سے جو میں نے ان پر لگائی تھی استغفار کا بھی بڑا موقع ملا اور اس دوران جو در دناک قسم کے خط وہ معافی کے لئے مجھے لکھتی رہیں وہ یقینا ان کے دل کی آواز تھے۔کیونکہ اس دفعہ عمومی طور پر اکثریت کا جو عمل تھا اُس نے اُسے ثابت بھی کر دیا۔پس یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری اور حمد کی طرف توجہ پھیرتی ہے کہ اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسی پیاری جماعت عطا فرمائی ہے جو خلافت کی آواز پر اس طرح اٹھتی اور بیٹھتی ہے اور اس طرح لبیک کہتی ہے کہ سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے جس کے قبضہ قدرت میں ہر دل ہے کوئی یہ حالت اور کیفیت مومنوں میں پیدا نہیں کرسکتا، کسی کے دل میں پیدا نہیں کرسکتا۔پس یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہی جماعت وہ کچی جماعت ہے جس کے پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے تھے اور جس نے اس زمانہ میں اسلام کی صحیح تعلیم کو دنیا میں دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا ہے۔جلسہ کے آخری دن عورتوں اور مردوں میں جو جذبات کا اظہار ہوا تھا وہ بھی پہلے سے بڑھ کر تھا اور بڑا جوش تھا۔مجھے وہاں کسی احمدی نے کہا کہ اس دفعہ کا تعلق مجھے کچھ اور طرح سے نظر آ رہا ہے اور واقعی اس کی یہ بات ٹھیک