خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 353
353 خطبه جمعه فرموده 29 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم جیسا کہ UK جلسہ پر بھی غیروں کا تاثر تھا اور دنیا کے دوسرے ممالک کے جلسوں پر بھی ہوتا ہے، جرمنی میں بھی غیروں نے اس بات کا اظہار کیا کہ اس بات کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح خوش دلی سے چھوٹے سے لے کر بڑے تک جن میں 7-8 سال کے بچے بھی شامل ہیں اور 60-70 سال کے بڑے بھی ، نوجوان بھی اور مرد بھی اور عورتیں بھی۔جو جو اپنی ڈیوٹیوں پر ہوتے ہیں، انتہائی خدمت کے جذبے سے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور اتنی لمبی لمبی ڈیوٹیاں دینے کے باوجود کسی کے ماتھے پر بل تک نہیں آتا بلکہ ان کے چہروں سے مہمانوں کی خدمت کر کے خوشی ظاہر ہورہی ہوتی ہے۔پھر شامل ہونے والوں کی آپس کی محبت اور بھائی چارے کا ماحول ہے، یہ بھی غیروں کو بہت متاثر کرتا ہے اور یہ بات ایسی ہے جو ہر احمدی کا خاصہ ہے اور ہونی چاہئے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جلسہ کی اغراض میں سے ایک بڑی غرض یہ بھی تھی کہ آپس میں محبت اور پیار پیدا ہو۔یہ بات جلسہ دیکھنے جو غیر آتے ہیں ان کو بہت متاثر کرتی ہے۔جس کا کئی غیروں نے جرمنی میں میرے سامنے بھی اظہار کیا کہ اتنا مجمع ہے اور ہمیں پولیس کہیں نظر نہیں آتی اور آرام سے سارے کام ہو رہے ہیں۔اب ان کو کوئی کس طرح بتائے کہ یہی تو وہ پاک انقلاب ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے اندر پیدا فرمایا۔تم بھی اگر اس جماعت میں شامل ہو جاؤ تو تمہاری بھی یہی حالت اور کیفیت ہو جائے گی کیونکہ اس حالت کے پیدا کرنے کے لئے ایک تسلسل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری تربیت فرمائی اور توجہ دلاتے رہے اور اس کے بعد خلافت توجہ دلاتی رہی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " اخلاق کا درست کرنا بڑا مشکل کام ہے۔جب تک انسان اپنا مطالعہ نہ کرتا رہے یہ اصلاح نہیں ہوتی۔زبان کی بد اخلاقیاں دشمنی ڈال دیتی ہیں۔اسی لئے اپنی زبان کو ہمیشہ قابو میں رکھنا چاہئے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 262 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ نے ہماری تربیت کرتے ہوئے فرمایا: ” پس یہ دستور ہونا چاہئے کہ کمزور بھائیوں کی مدد کی جاوے اور ان کو طاقت دی جاوے۔پھر آپ نے فرمایا: ” قرآن شریف میں آیا ہے تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَی کمزور بھائیوں کا بار اٹھاؤ۔کوئی جماعت جماعت نہیں ہو سکتی، جب تک کمزوروں کو طاقت والے سہارا نہیں دیتے اور اس کی یہی صورت ہے کہ ان کی پردہ پوشی کی جاوے۔صحابہ کو یہی تعلیم ہوئی کہ نئے مسلموں کی کمزوریاں دیکھ کر نہ چڑو کیونکہ تم بھی ایسے ہی کمزور تھے۔اسی طرح یہ ضروری ہے کہ بڑا چھوٹے کی خدمت کرے اور محبت اور ملائمت کے ساتھ برتاؤ کرے دیکھو وہ جماعت، جماعت نہیں ہو سکتی جو ایک دوسرے کو کھائے“۔