خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 339
339 خطبه جمعه فرمود 220 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم اور اکثر کر بازاروں میں چلتے اور تکبر سے کرسیوں پر بیٹھتے ہیں اور اپنے تئیں بڑا سمجھتے ہیں۔فرمایا: ” مبارک وہ لوگ جو اپنے تئیں سب سے زیادہ ذلیل اور چھوٹا سمجھتے ہیں اور شرم سے بات کرتے ہیں۔عاجزوں کو تعظیم سے پیش آتے ہیں، کبھی شرارت اور تکبر کی وجہ سے ٹھٹھا نہیں کرتے اور اپنے رب کریم کو یادرکھتے ہیں۔فرمایا سوئیں بار بار کہتا ہوں کہ ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے نجات تیار کی گئی ہے۔شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 398-397) پس یہ بڑی درد بھری نصائح ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں کی ہیں اور یہی باتیں ہیں جو اختیار کرنے سے ہم ان مخلصین میں شاملین ہوں گے جو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو اس جلسہ میں آنے کے مقصد کو پورا کرنے والے ہیں۔ورنہ آپ نے تو صاف فرما دیا ہے کہ یہ کوئی دنیاوی میلہ نہیں ہے۔آج آپ یہاں جمع ہیں اور اس حوالے سے کہ خلافت جو بلی کا جلسہ ہے جس کی ایک خاص اہمیت ہے یہ اللہ تعالیٰ کے ایک انعام کی یاد دلانے والا جلسہ ہے۔تو پھر حقیقی شکر اس وقت ادا ہو گا جب ہم اپنے نفسوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔جب ہم نے اس طرف توجہ کی ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے آنحضرت ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنی ہے کیونکہ یہ بھی خدا تعالیٰ کا حکم ہے ان لوگوں کے لئے جو خالص ہو کر اس کے بندے بنتے ہیں۔ہر میدان میں آنحضرت ﷺ نے ہمارے سامنے اسوہ قائم فرمایا ہے۔ہمیں نصیحت فرمائی کہ یہ اعمال میں اگر تم کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں قائم کرنے والے ہو گے۔قرآن کریم کے تمام احکامات آنحضرت ﷺ کا اسوہ ہیں۔حضرت عائشہ سے کسی نے پوچھا تھا کہ آنحضرت مسی کے اُسوہ کے بارے میں بتائیں ، آپ کے اخلاق کے بارے میں بتائیں۔تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا تم نے قرآن کریم نہیں پڑھا۔قرآن کریم کا ہر حکم آپ نے پہلے اپنے اوپر لا گوفر مایا۔پھر اس کی اپنی امت کو نصیحت فرمائی۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ اعمال ہیں اگر تم کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت بھی دلوں میں قائم کرنے والے ہو گے اور میری محبت کا دعوی بھی پھر حقیقی ہوگا۔جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے یہ اعلان خدا تعالیٰ کا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعوی ہے تو آنحضرت ﷺ سے بھی اس طرح محبت کرو کہ آپ کے ہر حکم اور ہر نصیحت پر عمل کرنا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنی دعاؤں کو اگر قبول کروانا چاہتے ہو تو آنحضرت ﷺ پر درود بھیجتے ہوئے میرے پاس آؤ۔لیکن درود اس طرح ہو کہ حقیقی عشق و محبت کی خوشبو میں لپٹا ہوا ہو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ۔يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ( الاحزاب : 57) -