خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 338 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 338

خطبات مسرور جلد ششم 338 خطبه جمعه فرمود 220 اگست 2008 طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔اپنے دینی اور روحانی معیار بلند کرنے کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی تبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کسی ذاتی مفاد کے بغیر ہو گی کسی دنیاوی منفعت کے بغیر ہوگی اور تبھی ہم میں سے ہر ایک جماعت کے لئے مفید وجود ثابت ہوگا اور یہی لوگ ہیں جن کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْن فرمایا ہے۔کیونکہ یہ خالص اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔یہ خالص ہو کر آنحضرت مہ سے محبت کرنے والے ہیں۔کیونکہ آپ اہی وہ ذات ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا ، سونا جاگنا خدا کی خاطر ہے جن کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اعلان کر دیں یہ کہہ کر کہ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ( آل عمران : 32) یعنی تو کہہ دے اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو پھر اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔پس آنحضرت ﷺ کی محبت نہ صرف اللہ تعالیٰ سے محبت کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ گناہوں کی بخشش اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ کا جب آغاز فرمایا تھا تو اس سے پہلے یہ اعلان فرمایا تھا کہ یہ اللہ اور رسول کی خالص ہو کر محبت کرنے کے لئے میں جلسے شروع کر رہا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ سال میں تین دن لوگ جمع ہوں اور محض اللہ ربانی باتوں کو سننے اور دعا میں شامل ہونے کے لئے آئیں۔آپ نے فرمایا کہ حتی الوسع دوستوں کو آنا چاہئے۔پس یہ بات پھر ان لوگوں کو توجہ دلانے والی ہونی چاہئے جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں، جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مخلصین کے نام سے پکارا ہے کہ جلسہ میں شامل ہونے کی بھی کوشش کریں کیونکہ یہ بھی اخلاص بڑھانے کا ذریعہ ہے کیونکہ یہاں آنا کسی دنیاوی مقصد کے لئے نہیں ہے بلکہ خالصتا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے ہے۔پس یہ مقصد ہمیشہ ہر احمدی کے پیش نظر ہونا چاہئے ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دوسری جگہ فرمایا ہے کہ اگر اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوتی تو یہ محبت خالص نہیں ہے اور جب یہ محبت خالص نہیں تو پھر ایسے لوگوں کا شمار بھی مخلصین میں نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ” مجھے ان لوگوں سے کیا کام جو سچے دل سے تمام احکام اپنے سر پر نہیں اٹھا لیتے اور رسول کریم کے پاک جوا کے نیچے صدق دل سے اپنی گردن نہیں دیتے اور راستبازی کو اختیار نہیں کرتے اور فاسقانہ عادتوں سے بیزار ہونا نہیں چاہتے اور ٹھٹھے کی مجالس کو نہیں چھوڑتے اور ناپاکی کے خیالوں کو ترک نہیں کرتے اور انسانیت اور تہذیب اور صبر اور نرمی کا جامہ نہیں پہنتے۔غریبوں کو ستاتے اور عاجزوں کو دھکے دیتے