خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 337
337 خطبه جمعه فرمود 22 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم سچائی بھی ثابت نہ ہوتی۔کیونکہ پہلے رسولوں کے ماننے والوں نے تو ان کا ایک عجیب و غریب تصور پیش کر دیا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس بچے اور عظیم رسول کا انکار کرنے والو! سن لو کہ تم یقینا جہنم کا عذاب چکھو گے اور نجات یافتہ وہی ہوں گے جو خالص ہو کر رسول پر ایمان لانے والے ہوں گے۔پھر اللہ تعالیٰ پہلی قوموں کے رسولوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کی گمراہی کی وجہ سے ہم نے انہیں اس دنیا میں بھی عذاب سے دو چار کیا۔سوائے اُن میں سے تھوڑے سے ان لوگوں کے جو عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِيْن تھے، ان لوگوں میں شامل تھے۔یہ مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے آج مسلمانوں اور غیر مسلموں کو بتا دیا کیونکہ قرآن کی شریعت ایک جاری شریعت ہے اور ہمیشہ رہنے والی شریعت ہے، ہمیشہ رہنے والی تعلیم ہے یہ بتا دیا کہ کیا آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلام صادق کا انکار کر کے تم بیچ سکو گے؟ ہر گز نہیں۔پس یہ بھی ہم احمدیوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اُس نے ہمیں اس زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرما کر اپنے انعام سے نوازا ہے۔اب ہم پر فرض ہے کہ اس انعام کی قدر کرنے والے بنیں۔پھر اللہ تعالیٰ اپنی بڑائی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اللہ ہر اس عیب سے پاک ہے جو اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے اس پر لگاتے ہیں۔اُن لوگوں کو سوائے ناکامی اور جہنم کے کچھ نہیں ملے گا اور اللہ کی خالص عبادت کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔اس زمانہ میں آج کل ان یورپین ممالک میں بھی خدا تعالیٰ کی خدائی اور اس کے وجود سے انکار کرنے والے بہت سے پیدا ہو گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے بارہ میں، خدا کی ذات کے ہونے یا نہ ہونے کے بارہ میں مختلف تصورات اور نظریات ابھر نے لگ گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ ان سب کا انجام بد ہونا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین نہیں رکھتے اور کامیابی اللہ تعالیٰ کے خالص بندوں کی ہی ہے۔پس تم ہمیشہ اس بات کو یاد رکھو، یہ نہیں کہ جب تم کسی مشکل میں گرفتار ہوئے تو یا جب اپنے مطلب ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی یاد آنے لگ جائے اور عام حالات میں خدا کو بھول بیٹھیں۔اتنے انعامات جو ہم احمدیوں پر اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیں ان کا تقاضا یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہمارے پیش نظر رہے اور ہر جگہ جہاں اللہ تعالیٰ کی ذات کو بیان کرنا ہے اور اس کی خوبیاں بیان کرنی ہیں، اللہ تعالیٰ کی ہستی اور وجود کو دنیا پر ثابت کرنا ہے وہاں ایک احمدی کو فوراً تیار ہو جانا چاہئے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ اعلان فرمایا کہ میرے مخلصین اللہ اور اس کے رسول کی محبت سب محبتوں پر غالب کر لیں تو ہر قسم کی دنیاوی برائیوں سے بچنے کی طرف بھی توجہ دلا دی اور یہ فرمایا کہ ہر وقت تمہیں یہ توجہ رکھنی چاہئے کہ کسی بھی قسم کی برائی تمہارے اندر کبھی پیدا نہ ہو۔اس زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی توقعات پر پورا اترنے کی طرف ہمیں توجہ دینی ہوگی۔اللہ اور اس کے رسول اکے احکامات پر اور سنت پر چلنے کی کوشش کرنی ہوگی اور اس پر عمل کرنے کے لئے اس کو جاننے کی