خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 334
334 خطبه جمعه فرمودہ 15 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم پس ہر احمدی کو چاہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بننا ہے اور ان مسجدوں کی تعمیر سے فائدہ اٹھانا ہے جس کی طرف آج کل آپ کی توجہ ہوئی ہوئی ہے تو ان برائیوں سے بچیں اور اُن نیکیوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی کوشش کریں جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلاتے ہوئے حکم فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ سے تعلق اس طرح نہیں ہو سکتا کہ انسان غفلت کاریوں میں مبتلا بھی رہے اور صرف منہ سے دم بھرتا رہے کہ میں نے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر لیا ہے۔اکیلے بیعت کا اقرار اور سلسلہ میں نام لکھ لینا ہی خدا تعالیٰ سے تعلق یر کوئی دلیل نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لئے ایک محویت کی ضرورت ہے۔آپ فرماتے ہیں ” ہم بار بار اپنی جماعت کو اس پر قائم ہونے کے لئے کہتے ہیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 33 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں : ” تمہارا کام اب یہ ہونا چاہئے کہ دعاؤں اور استغفار اور عبادت الہی اور تزکیہ و تصفیہ نفس میں مشغول ہو جاؤ۔اس طرح اپنے تئیں مستعد بناؤ خدا تعالیٰ کی عنایات اور توجہات کا جن کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود کی جماعت سے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 212 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں : ”ہماری جماعت کا اعلیٰ فرض ہے کہ وہ اپنے اخلاق کا تزکیہ کریں اور حقوق عباد اور حقوق اللہ کے ادا کرنے کی دقیق سے دقیق رعایت کیا کریں“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 326 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) تو یہ ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم اور توقعات۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم خالص ہو کر اس کی عبادت کرنے والے بنیں، انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کرنے والے بنیں اور اپنے نفس کی پاکیزگی کی طرف ہمیشہ توجہ دینے والے ہوں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اپنی عبادتوں اور اپنی قربانیوں کی قبولیت کی بھیک مانگتے رہنے والے ہوں۔خدا تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 15 شماره 36 مورخہ 5 ستمبر تا 11 ستمبر 2008 صفحه 5 تا صفحه 7)