خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 329 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 329

خطبات مسرور جلد ششم 329 خطبه جمعه فرمودہ 15 اگست 2008 تو یہ چیز ہے کہ آپ نے اس طرح کہا کہ نماز میں توجہ پیدا ہونی چاہئے۔اور اس کی اعلیٰ ترین مثال ہمیں آنحضرت ﷺ کی ذات میں نظر آتی ہے۔کیونکہ ہمارے لئے وہی اُسوہ حسنہ ہے، یعنی کامل اسوہ ہے۔اور آپ کا اللہ تعالیٰ میں فنا ہونے کا ایسا اعلیٰ مقام تھا کہ خدا تعالیٰ نے آپ سے یہ اعلان کروایا کہ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: 163) یعنی تو کہہ دے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ان کو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا خدا کی راہ میں ہے۔یعنی اس کا جلال ظاہر کرنے کے لئے۔اور نیز اس کے بندوں کے آرام دینے کے لئے ہے تا میرے مرنے سے ان کو زندگی حاصل ہو۔اور اس مرنے سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں ' غرض اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے واقعی ہمدردی اور محنت اٹھانے سے بنی نوع کی رہائی کے لئے جان کو وقف کر دیا تھا اور دُعا کے ساتھ اور تبلیغ کے ساتھ اور ان کے جور و جفا اٹھانے کے ساتھ اور ہر ایک مناسب اور حکیمانہ طریق کے ساتھ اپنی جان اور اپنے آرام کو اس راہ میں فدا کر دیا تھا۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زیر سورۃ الانعام آیت 163) پس جب ایک اللہ کا بندہ، خدا تعالیٰ کی محبت میں محو ہو جائے گا یا ہونے کی کوشش کرے گا، ایک مومن جب آنحضرت ﷺ کے اسوہ کو سامنے رکھے گا تو اس کا اس کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ خدا تعالیٰ کا حقیقی عابد بنے اور اس کی مخلوق کی خدمت کے لئے انصاف کے تمام تقاضے پورے کر رہا ہو۔اُس حقیقی تعلیم سے دنیا کو روشناس کروائے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعے اتاری ہے تا کہ حقیقی عدل دنیا میں قائم ہو اور جب ایک شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بھی توجہ دے رہاہو اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے کے بھی تمام تقاضے پورے کر رہا ہو تو یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ اپنے نفس کے تزکیہ کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے والا نہ ہو اور اس طرف اس کی توجہ نہ ہو اور اس میں ترقی کرتے چلے جانے والا نہ ہو۔پس اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ پر چلنا ایک انسان کو وہ مقام عطا کرتا ہے کہ جب وہ خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتا ہے تو ایک پاک اور معصوم روح کی صورت میں حاضر ہوتا ہے۔اس مقام اور مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سورۃ انحل میں اس طرح حکم فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيْتَايْ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْي۔يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ (النحل:91) یقینا اللہ تعالیٰ عدل کا اور احسان کا اور اقرباء پر کی جانے والی عطا کی طرح