خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 327 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 327

327 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرمودہ 15 اگست 2008 کہ یقینا اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔یعنی جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو یقیناً بہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔یقینا اللہ تعالیٰ بہت سنے والا اور گہری نظر رکھنے والا ہے۔یہاں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک مومن کا انصاف کا معیار اس وقت قائم ہوتا ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کا حق ادا کریں اور اللہ تعالیٰ کا حق کس طرح ادا ہو گا اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ہم اسی وقت سچے بندے ٹھہر سکتے ہیں کہ جو خداوند منعم نے ہمیں دیا ہے، ہم اس کو واپس کر دیں یا واپس دینے کے لئے تیار ہوجائیں۔ایک دوسری جگہ آپ نے فرمایا کہ اس حق کے ادا کرنے کا حقیقی حق تو آنحضرت ﷺ نے ادا فرمایا۔آپ فرماتے ہیں کہ امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قومی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی اور جسمانی ہیں جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے اور پھر انسان کامل بر طبق آیت إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الَّا مَنتِ إِلَى أَهْلِهَا - ( النساء: 59) اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔آپ فرماتے ہیں’ یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور ائم طور پر ہمارے سید ، ہمارے مولیٰ ہمارے ہادی، نبی وامی ، صادق و مصدوق محمد مصطفی ﷺ میں پائی جاتی تھی۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 161-162) پس یہ ہے وہ انصاف کا اعلیٰ ترین معیار جو آنحضرت ﷺ نے قائم فرمایا۔لیکن یہ اُسوہ قائم فرما کر ہمیں بھی اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق یہ حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہمیں حکم ہے کہ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کا جو اسوہ ہے وہ ہی قابل تقلید ہے۔وہ کامل نمونہ ہیں جن کے نقش قدم پر چلنے کی تم نے کوشش کرنی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا کہ ہم اُس وقت بچے بندے ٹھہر سکتے ہیں کہ جو خدا نے ہمیں دیا اسے واپس دیں یا وا پس دینے کی کوشش کریں۔یعنی آنحضرت ﷺ نے جو اسوہ قائم فرمایا اس پر چلنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں کیونکہ آپ نے ہی اللہ تعالیٰ کی امانت کو اللہ تعالیٰ کو لوٹانے کا صحیح حق ادا کیا اور اس کے لئے کوشش کرنا بھی ایک مومن کا فرض ہے اور یہی ایک مومن ہونے کی نشانی ہے۔اور جب یہ سوچ پیدا ہوتی ہے تو تب ہی انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں اور ہوں گے۔سورۃ اعراف میں اَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ (اعراف: 30) کہ کر جس انصاف کا حکم دیا گیا ہے وہ دو طرح قائم ہوتا ہے ایک اللہ تعالیٰ کا حق ادا کر کے اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے انعاموں کو اس کی رضا کے حصول کے لئے استعمال کر کے، اس کی دی ہوئی امانتوں کو اس کا حق ادا کرتے ہوئے اس کو واپس لوٹاتے ہوئے۔اور دوسرے