خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 318 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 318

318 خطبه جمعه فرمودہ 8 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم پس یہ حفاظت کا وعدہ جو قرآن کریم کے بارے میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے یہ اس بات کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ پہلی کتب کی جو باتیں قرآن کریم تصدیق کرتا ہے وہی کچی باتیں ہیں۔غیر مسلم قرآن کریم کی باتوں کو مانیں یانہ مانیں لیکن ان کا ایک بہت بڑا طبقہ جو مذہب سے دلچسپی رکھتا ہے یہ مانتا ہے کہ ان کی کتب 100 فیصد اصلی حالت میں نہیں ہیں۔دوسرے 100 فیصد اس پر عمل کرنے کی کوشش نہیں ہوتی۔قرآن کریم کے بارہ میں بھی لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ابتداء سے آج تک اپنی اصلی حالت میں ہے۔گو کہ بعض شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے ایک خطبہ میں ذکر کیا تھا کہ امریکہ میں گزشتہ دنوں کوشش کی گئی ہے اور اب اس کی تحقیق کی جارہی ہے لیکن ابھی تک یہ ثابت نہیں کر سکے۔تو قرآن کریم کے بارہ میں بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ صحیح حالت میں ہے اور یہی چیز قرآن کریم کو باقی صحیفوں پر فوقیت دلواتی ہے۔پس یہاں قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ یہ باقی کتب پر نگران ہے اس کے باقی کتب پر نگران ہونے اور پہلے انبیاء کے جو واقعات اس میں بیان کئے گئے ہیں ان کے بچے ہونے کی دلیل ہے اور پرانی کتب میں بیان کردہ واقعات وہی بچے ہیں جن کو قرآن کریم نے رد نہیں کیا یا جن کی تصدیق کی ہے۔اس طرح اس سے یہ بھی مراد ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم مستقل اور ہر زمانہ کے لئے ہے اور ہر زمانہ کے حالات کے مطابق اس پر غور کرنے والوں پر اس تعلیم کے عجائبات اور راز کھلتے ہیں۔اور پھر صرف جماعتی سطح اور قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ انفرادی طور پر بھی ہر شخص جو اس کتاب کو ماننے والا ہے اور جو اس پر غور کرنے والا ہے اس سے فائدہ اٹھائے گا یا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا تو اس کو فائدہ پہنچے گا۔یعنی روحانی طور پر بھی اور مادی طور پر بھی ہر شخص اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔پس اگر حقیقی فائدہ اٹھانا ہے تو اس تعلیم کا جو آجو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے اپنی گردن پر ڈالنا ہوگا اور پھر اسی وجہ سے ہر شخص ایمان میں بھی مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔خدا تعالیٰ کی صفت مُهَيْمِن سے پھر فیض اٹھائے گا۔پس ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ فیض اٹھانے کے لئے اس تعلیم پر عمل کرنا، اس میں بیان کردہ احکامات پر عمل کرنا اور ان نیکیوں میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس میں بیان فرمائی ہیں۔اللہ تعالیٰ ایک دوسری جگہ فرماتا ہے وَلِكُلّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (البقرہ:149) اور ہر ایک شخص کا ایک مطمح نظر ہوتا ہے جسے وہ اپنے آپ پر مسلط کر لیتا ہے ستمہارا طمح نظر یہ ہوکہ تم نیکیوں کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔پس اس تعلیم پر عمل کرنے والا بننے کے لئے یہ نیکیاں مسلط کرنی ہوں گی۔یا مسلط کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔نیکیوں کو ہر دوسری بات پر فوقیت دینی ہوگی۔