خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 311
خطبات مسرور جلد ششم 311 خطبه جمعه فرموده یکم اگست 2008 سے آئے ہوئے ایک عیسائی مہمان نے مجھ سے کہی جو وہاں سیاسی لیڈر ہیں، حکومت میں ہیں۔کہتے ہیں جب بچے چائے اور پانی سرو (Serve) کر رہے ہوتے تھے تو عجیب طمانیت ان بچوں کے چہروں پر ہوتی تھی۔اگر ان سے نہ لو تو ان کے چہروں پر بڑی افسردگی سی طاری ہو جاتی تھی۔اس لئے مجبوراً ہر دفعہ جب بھی وہ آتے تھے، چاہے ضرورت ہو یا نہ ہو ان سے جو بھی وہ پیش کر رہے ہوں لینا ہی پڑتا تھا اور جب ان سے چیز لے لو تو ان کے چہرے کھل اٹھتے تھے اور یوں لگتا تھا جیسے خوشی ان کے دلوں سے پھوٹی پڑتی ہے۔پس یہ ہیں احمدی بچے جن کے دلی جذبات مہمانوں کی خدمت کر کے پھولے پڑتے ہیں۔دنیا تو دیدہ و دل فرش راہ کا جو اردو کا محاورہ ہے اکثر مبالغہ کے طور پر استعمال کرتی ہے لیکن احمدی خاص طور پر جو جلسہ کے دنوں میں ڈیوٹی دینے والے احمدی ہیں بڑے سے لے کر بچے تک اس کی روح کو سمجھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کر کے اس کی عملی تصویر بن جاتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ ہر ایک کی کوشش یہ ہی ہوتی ہے اور خواہش بھی ہے کہ مہمان کی خدمت کرے اور اس لئے کرے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا یہ حکم ہے۔پس مبارکباد کی مستحق ہیں وہ مائیں جن کی گودوں سے ایسے بچے اور بچیاں نکل رہی ہیں جو عشق رسول عربی ا اور احمد ہندی کی وفا کی وجہ سے آپ کے مہمانوں کی خدمت کر کے دلی سرور حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ایک مہمان نے اطاعت اور ڈسپلن کی یہ مثال دی کہ ایک موقع پر جب نعرے لگ رہے تھے۔ہر ایک انتہائی جوش کی حالت میں تھا۔مجھے کہنے لگے کہ اس وقت تم نے جب کہا کہ خاموش ہو جاؤ تو ایک دم ہر طرف سناٹا چھا گیا۔تو کہنے لگے کہ یہ نظارہ تو نہ کبھی پہلے دیکھا تھا اور نہ سنا تھا اور یہ نظارے یقینا آج کہیں اور دیکھے اور سنے جا بھی نہیں سکتے۔کیونکہ آج مسیح محمدی کے علاوہ کسی کے ساتھ تائیدات الہی شامل ہونے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ نہیں ہے اور نہ ہی اخلاص و وفا میں بڑھنے والی اور اطاعت گزار جماعت دینے کا وعدہ کسی اور سے خدا تعالیٰ کا ہے۔پس دلوں پر تصرف تو صرف خدا تعالیٰ کا ہے اور وہی ہے جو اطاعت کی حالت لوگوں کے دلوں میں پیدا کر سکتا ہے اور پیدا کرتا ہے جنہیں اس نے مسیح محمدی کا غلام بنایا ہے اور نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا غلام بنایا ہے بلکہ آپ کے بعد خلافت احمدیہ سے بھی ایک اخلاص و وفا کا اور اطاعت کا تعلق پیدا فرما دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ہم دیکھتے ہیں کہ اس جماعت نے اخلاص و محبت میں بڑی نمایاں ترقی کی ہے۔بعض اوقات جماعت کا اخلاص ، محبت اور جوش اور جوش ایمان دیکھ کر خود ہمیں تعجب اور حیرت ہوتی ہے“۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 605 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں : ”غور سے دیکھا جاوے تو جو کچھ ترقی اور تبدیلی ہماری جماعت میں پائی جاتی ہے۔وہ