خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 310 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 310

310 خطبه جمعه فرموده یکم اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم جماعت کے افراد بہر حال اچھے ہیں اور یہ لیڈرشپ خلافت کی وجہ سے جماعت کو صحیح راستے پر چلا رہی ہے اور جماعت کے افراد میں اطاعت کا مادہ ہے۔میں نے ان کو کہا آپ نے خود ہی کہہ دیا، یہی پیغام اپنے علماء کو دے دیں جو جماعت کے خلاف شور مچاتے رہتے ہیں۔پس ان لوگوں کے لئے اب یہ تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ جماعت کے پاس خلافت ہے جس سے وہ لوگ محروم ہیں اور اس وجہ سے ان میں وہ وحدت پیدا نہیں ہو سکتی جس کے لئے وہ کوشش کر رہے ہیں۔پس اگر باقی اعتراضوں کے باوجود مجھے براہ راست انہوں نے اعتراض کا نشانہ نہیں بنایا تو یہ کوئی میری ذات کی بڑائی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا اپنے وعدے کے مطابق خلافت کا رعب قائم کرنا ہے۔گو کہ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو منہ پر آپ کے کچھ کہہ بھی جاتے ہیں، کہہ سکتے ہیں، آج تک کسی نے کہا تو نہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے لیکن جس میں ہلکی سی بھی شرافت ہے وہ اعتراض بھی جب کرتے ہیں تو محتاط رنگ میں کرتے ہیں۔بہر حال یہ اعتراض کی باتیں بھی میں نے اس لئے بتا دیں کہ ہم نے تو بہر حال بہتری کی تلاش میں رہنا ہے اور رہتے ہیں اس لئے آئندہ ہم اپنے اندر مزید بہتری پیدا کرنے کی کوشش کریں اور کر سکیں ، وقت کی پابندی کے لحاظ سے بھی اور مہمانوں کا خیال رکھنے کے لحاظ سے بھی۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ عمومی طور پر ہر ایک نے جلسہ کے پروگرام کو بہت سراہا ہے۔یوگنڈا کی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر بھی آئی ہوئی تھیں انہوں نے وہاں شاید تقریر بھی کی ہے۔مجھے ملیں اور کہنے لگیں کہ جو تم نے عورتوں میں تقریر کی تھی اس نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔کہنے لگیں کہ عورتوں کے حقوق کے بارے میں لوگ تقریریں کرتے ہیں لیکن حقوق ہونے چاہئیں تک رہتے ہیں۔لیکن یہ نہیں بتاتے کہ عورت کا حق کیا کیا ہے۔تم نے جس طرح قرآن کریم کی روشنی میں بتایا ہے یہ میں نے اس تفصیل سے پہلی دفعہ سنا ہے۔اتنے واضح حقوق عورت کے اسلام نے بیان کئے ہیں۔تو وہ شاید عیسائی ہیں، کہتی ہیں میں تو اس تعلیم سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔یہی اظہار قازقستان سے آئی ہوئی وہاں کی ایک سیاسی لیڈر نے کیا ہے۔کہنے لگیں میں دعا کرتی ہوں، یہ سب ماحول دیکھنے کے بعد اور تم لوگوں کی باتیں سنے کے بعد تمہاری تقریریں سننے کے بعد کہ تمام دنیا جماعت کے جھنڈے تلے آ جائے۔ہمارا جھنڈا کیا ہے؟ احمدی تو وہ جھنڈا لہراتا ہے جو آنحضرت ﷺ نے ہرایا وہ تعلیم بتاتا ہے جو آنحضرت میر نے بتائی۔پس یہ تو احمدی کا کام ہے ہی کہ تمام دنیا کو آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے جمع کرے اور یہ انشاء اللہ ایک دن ضرور ہوگا۔ایک احمدی نے مجھے لکھا کہ بچے جو پانی پلانے کی ڈیوٹی پر تھے وہ آ آ کر پانی پیش کرتے تھے اور جب ان سے پانی لے لو تو ان کے چہروں سے بڑی خوشی ظاہر ہوتی تھی، چہرے چمک اٹھتے تھے۔یہی بات ہمارے آئیوری کوسٹ