خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 309 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 309

309 خطبه جمعه فرموده یکم اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم کا اظہار کرتے ہیں ، آپ لوگ سنتے رہے۔ایک اسلامی ملک کے دو غیر از جماعت بھی یہاں آئے ہوئے تھے جن کا یہ شکوہ تھا کہ ہمیں وقت نہیں دیا گیا۔تو بہر حال آئندہ انتظامیہ کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہر ملک کو اگر وقت نہیں دیا جاسکتا تو کم از کم ہر علاقے جن میں ملکوں کے لحاظ سے تقسیم ہو، ان غیر از جماعت کی نمائندگی ہونی چاہئے جو وہاں کی جماعتوں سے پتہ کر کے آتے ہیں۔جلسہ کے تمام پروگراموں میں جو مجھے غیروں کی طرف سے اعتراض ملے وہ دو تھے۔ایک تو یہی کہ ہمیں وقت نہیں دیا گیا، ہمیں بولنے کا وقت دیا جانا چاہئے تھا اور دوسرا یہ اعتراض تھا کہ پروگرام وقت پر شروع نہیں ہوتے رہے۔حالانکہ جہاں تک مجھے علم ہے بعض حالات کی وجہ سے اگر کوئی دیر ہوئی ہے تو چند منٹ کے علاوہ عموماً پروگرام وقت پہ شروع ہوتے رہے ہیں۔میں نے انہیں بتایا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اتنا وسیع انتظام ہے اور تمام انتظام عارضی بنیادوں پر ہے۔اگر کسی بات پر چند منٹ کی دیر ہو جائے تو اس کونظرانداز کر دینا چاہئے۔میں نے انہیں بتایا کہ مثلاً بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ کھانا وسیع انتظام کے تحت ہے، وقت پر ختم نہیں ہوا یا ٹرانسپورٹ کی وجہ سے لوگوں کے آنے میں کوئی دقت ہوگئی کیونکہ لوگ مختلف جگہوں سے آ رہے ہوتے ہیں۔پھر مہمان مقررین کو جو وقت دیا جاتا ہے جب وہ بول رہے ہوتے ہیں تو اپنے مقررہ وقت سے بعض دفعہ زائد بول جاتے ہیں اس لئے پھر ہر پروگرام آگے چلتا چلا جاتا ہے اور ہم ان کو مہمان ہونے کی وجہ سے ، اس کی مہمان کی ایک حیثیت ہے اس وجہ سے روک نہیں سکتے۔تو ان وجوہات کی وجہ سے اگر پروگرام لیٹ ہو جاتا ہے تو امید ہے وہ ہماری معذرت قبول کریں گے۔لیکن وہ صاحب بھی بڑے پکتے تھے کوئی نہ کوئی اعتراض تو انہوں نے ڈھونڈ نا تھا لیکن عمومی طور پر اچھا تاثر تھا۔یہ اعتراض تو اس لئے کہ ہر کوئی وہاں بیٹھا تعریف کر رہا تھا۔اس بات پر وہ بضد رہے کہ وقت کی پابندی ہونی چاہئے۔کہنے لگے کہ میں نے بڑی بڑی کانفرنسیں اٹینڈ (Attend) کی ہیں جن میں وقت کی پابندی ہوتی ہے تو میں نے ان سے کہا کہ اس سے انکار نہیں کہ وقت کی پابندی ہونی چاہئے۔لیکن جو کا نفرنسیں آپ اٹینڈ (Attend) کر کے آتے ہیں، بیرونی دنیا میں آپ نے دیکھی ہوں گی وہ کا نفرنسیں جہاں منعقد ہوتی ہیں وہاں سارے انتظامات وہیں موجود ہوتے ہیں اور اس طرح مختلف طبقوں کی اتنی بڑی تعداد بھی وہاں نہیں ہوتی۔پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں، ایک محدود طبقہ ہوتا ہے۔تو بہر حال باتیں ہوتی رہیں۔اس بات کو انہوں نے تسلیم کیا کہ جماعت کا ڈسپلن اور اطاعت اور آپس کی محبت واقعی بہت اعلیٰ اور مثالی ہے۔اور پھر مجھے کہنے لگے کہ تمہارے پروگرام جہاں تم شامل ہوتے تھے ذاتی طور پر وہ تقریباً وقت پر شروع ہوتے رہے اور تمہاری باتیں بھی عین اسلامی تعلیم کے مطابق اور بڑی اعلیٰ باتیں تھیں۔میں نے انہیں کہا کہ کم از کم آپ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری باتیں اچھی ہیں ، لوگوں میں اطاعت کا مادہ ہے، روحانی ماحول ہے اور یہی باتیں آپ کے لئے اور آپ کے علماء کے لئے کافی ہونی چاہئیں کہ جماعت احمدیہ کی لیڈر شپ اور