خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 292
خطبات مسرور جلد ششم 292 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 2008 میاں رحمت اللہ باغانوالہ کا واقعہ ہے یہ میاں رحمت اللہ صاحب باغانوالہ سیکرٹری انجمن احمد یہ بنگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص خادموں میں سے ہیں، اور بنگہ کی جماعت میں بعد میں خدا تعالیٰ نے بڑی برکت اور ترقی بخشی۔1905ء میں جبکہ حضرت اقدس باغ میں تشریف فرما تھے ، میاں رحمت اللہ قادیان آئے ہوئے تھے اور وہ مہمان خانے میں حسب معمول ٹھہرے ہوئے تھے۔میاں نجم الدین مرحوم لنگر خانے کے داروغہ مہتم تھے ، ان کی طبیعت کسی قدر گھڑ سی واقعہ ہوئی تھی۔اگر چہ اخلاص میں وہ کسی سے کم نہ تھے اور سلسلہ کی خدمت اور مہمانوں کے آرام کا اپنی طاقت اور سمجھ کے موافق بہت خیال رکھتے تھے اور مجتہدانہ طبیعت پائی تھی۔میاں رحمت اللہ صاحب نے کچھ تکلف سے کام لیا روٹی کچی ملی اور وہ بیمار ہو گئے۔مجھ کو خبر ہوئی اور میں نے ان سے وجہ دریافت کی تو بتایا کہ روٹی کچی تھی اور تندور کی روٹی عام طور پر کھانے کی عادت نہیں ہے۔مجھے ان کی تکلیف کا احساس ہوا۔میری طبیعت بے دھڑک سی واقعہ ہوئی ہے۔میں سیدھا حضرت صاحب کے پاس گیا اطلاع ہونے پر آپ فوراً تشریف لے آئے اور باغ کی اس روش پر جو مکان کے سامنے ہے ٹہلنے لگے اور دریافت فرمایا میاں یعقوب علی کیا بات ہے۔میں نے واقعہ عرض کر کے کہا کہ حضوڑ یا تو مہمانوں کو سب لوگوں پر تقسیم کر دیا کرو اور یا پھرا نظام ہو کہ تکلیف نہ ہو۔میں آج سمجھتا ہوں اور اس احساس سے میرا دل بیٹھنے لگتا ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ کے مامور اور مرسل کے حضور اس رنگ میں کیوں عرض کی۔اب وہ کہتے ہیں کہ مجھے خیال آتا ہے کہ میں نے کیا بیوقوفی کی۔مگر بہر حال کہتے ہیں اس رحمت کے پیکر نے اس کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کی کہ میں نے کس رنگ میں بات کی ہے۔فرمایا کہ آپ نے بہت ہی اچھا کیا کہ مجھ کو خبر دی۔میں ابھی گھر سے چپاتیاں پکوانے کا حکم کر دوں گا۔تندور کی روٹی اگر کھانے کی عادت نہیں نرم پھلکے پکوانے کا انتظام کر دوں گا۔میاں نجم الدین کو بھی تاکید کرتا ہوں اسے بلا کر میرے پاس لاؤ۔یہ بہت اچھی بات ہے اگر کسی مہمان کو تکلیف ہو تو فوراً مجھے بتاؤ لنگر خانے والے نہیں بتاتے اور ان کو پتہ بھی نہیں لگ سکتا اور یہ بھی فرمایا کہ میاں رحمت اللہ کہاں ہیں وہ زیادہ بیمار تو نہیں ہو گئے اگر وہ آسکتے ہوں تو ان کو بھی یہاں لے آؤ۔میں نے واپس آ کر میاں رحمت اللہ صاحب سے ذکر کیا وہ بیچارے بہت پریشان ہوئے کہ آپ نے کیوں حضرت صاحب کو تکلیف دی۔میری طبیعت اب اچھی ہے۔خیر میں ان کو حضرت صاحب کے پاس لے گیا اور میاں نجم الدین صاحب کی بھی حاضری ہوگئی جو انچارج لنگر خانہ تھے۔حضرت صاحب نے میاں رحمت اللہ صاحب سے بہت عذر کیا، بڑی معذرت کی کہ بڑی غلطی ہوگئی ہے، آپ کو تو تکلف نہیں کرنا چاہئے تھا۔میں باغ میں تھا ور نہ تکلیف نہ ہوتی اب انشاء اللہ انتظام ہو گیا ہے۔جس قدر حضرت صاحب عذر اور دلجوئی کریں میں اور میاں رحمت اللہ اندر ہی اندر نادم ہوں اور پھر جتنے دن وہ رہے حضرت صاحب نے روزانہ مجھ سے دریافت فرمایا کہ تکلیف تو نہیں؟ اور میاں نجم الدین کو بھی بڑی نصیحت کی کہ مہمانوں کا خیال رکھا کرو۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود مرتبہ حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی جلد اول صفحہ 149 تا151)