خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 293
خطبات مسرور جلد ششم 293 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 2008 حضرت مفتی صادق صاحب لکھتے ہیں حضرت صاحب مہمانوں کی خاطر داری کا بہت اہتمام رکھا کرتے تھے۔جب تک تھوڑے مہمان ہوتے تھے آپ خود ان کے کھانے اور رہائش وغیرہ کا انتظام کیا کرتے تھے۔جب مہمان زیادہ ہونے لگے تو خدام حافظ حامد علی صاحب اور میاں نجم الدین وغیرہ کو تاکید فرماتے رہتے تھے کہ دیکھو مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ان کی تکلیف ان کی تمام ضروریات خورونوش اور رہائش کا خیال رکھا کرو۔بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں۔اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الا کرام جان کر تواضع کرو۔سردی کا موسم ہے چائے پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔تم پر میرا حسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو۔ان سب کی خوب خدمت کرو۔اگر کسی کو گھر یا مکان میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کر دیا کرو۔(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 195) ایک غیر از جماعت کے تاثرات بھی سن لیں جو 1905ء میں قادیان تشریف لائے تھے۔اپنے قادیان سے جانے کے بعد امرتسر کے اخبار ” وکیل میں اپنے سفر کی داستان انہوں نے بیان کی۔اس کا کچھ حصہ ہے۔لکھتے ہیں کہ میں نے اور کیا دیکھا۔قادیان دیکھا، مرزا صاحب سے ملاقات کی مہمان رہا۔مرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکر یہ ادا کرنا چاہئے ، میرے منہ میں سے حرارت کی وجہ سے چھالے پڑ گئے تھے ( گرمی کی وجہ سے ) اور میں شور غذائیں کھا نہیں سکتا تھا۔مرزا صاحب نے جبکہ دفعتاً جب گھر سے باہر تشریف لے آئے تھے دودھ اور پاؤ روٹی تجویز فرمائی۔آج کل مرزا صاحب قادیان سے باہر ایک وسیع اور مناسب باغ جو خود ان کی ہی ملکیت ہے میں قیام پذیر ہیں۔بزرگان ملت بھی وہیں ہیں۔قادیان کی آبادی تقریباً 3 ہزار آدمیوں کی ہے مگر رونق اور چہل پہل بہت ہے۔نواب صاحب مالیر کوٹلہ کی شاندار اور بلند عمارت ساری بستی میں صرف ایک ہی عمارت ہے۔راستے کچے اور ناہموار ہیں، بالخصوص وہ سڑک جو بٹالے سے قادیان تک آئی ہے اپنی نوعیت میں سب پر فوقیت لے گئی ہے۔آتے ہوئے یکہ میں مجھے جس قدر تکلیف ہوئی تھی نواب صاحب کی رتھ نے لوٹنے کے وقت نصف کی تخفیف کر دی۔آتے ہوئے ٹانگے پہ آئے تھے اور جاتے ہوئے رتھ پہ گئے۔بہر حال پھر لکھتے ہیں کہ اگر مرزا صاحب کی ملاقات کا اشتیاق میرے دل میں موجزن نہ ہوتا تو شاید آٹھ میں تو کیا آٹھ قدم بھی آگے نہ بڑھ سکتا۔اکرام ضیف کی صفت خاص اشخاص تک محدود نہ تھی۔چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہرایک نے بھائی کا سا سلوک کیا۔سیرت حضرت مسیح موعود۔مرتبہ حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی۔جلد اول صفحہ 144-145) یہ چند واقعات میں نے پیش کئے ہیں کہ آج اس حوالے سے جہاں مہمان نوازی کے لئے ایک جوش سے کارکن تیار ہوں وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کا یہ پہلو بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہو بلکہ اکثریت تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے پہلوؤں کو جانتی نہیں ہے کیونکہ ہر زبان میں سیرت