خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 289 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 289

خطبات مسرور جلد ششم 289 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 2008 تک اس مؤثر نظارے کو دیکھتی ہیں گویا وہ بڑا گلاس حضرت کے ہاتھ سے میر صاحب کو دیا جا رہا ہے۔جو مجھے بھی یہ نظارہ یاد ہے۔بہر حال یہ کہتے ہیں مگر یہ ضرور تھا کہ حضرت محمود اس کرم فرمائی میں شریک تھے اور حضور چینی گھولتے تھے گلاس میں دودھ ڈالتے تھے، اچھی طرح ہلاتے تھے پھر مجھے پینے کے لئے دیتے تھے۔بعض دوستوں نے یہ کام خود کرنا چاہا تو حضور نے فرمایا نہیں نہیں کوئی حرج نہیں، میں خود کروں گا۔جب شاہ صاحب نے گلاس پی لیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دوسرا گلاس بھر کے دیا۔کہتے ہیں میں نے وہ بھی پی لیا۔گلاس بڑا تھا میرا پیٹ بھر گیا۔پھر اسی طرح تیسرا گلاس بھرا گیا میں نے بڑا شرمگیں ہو کر عرض کیا کہ حضور اب تو پیٹ بھر گیا ہے، فرمایا کہ ایک اور پی لو۔میں نے وہ تیسرا گلاس بھی پی لیا۔پھر حضور نے اپنی جیب سے کچھ بسکٹ نکالے اور فرمایا کہ جیب میں ڈال لو اور راستے میں اگر بھوک لگی تو یہ کھانا۔میں نے وہ جیب میں ڈال لئے اور خیر وہ دودھ جو باقی تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اندر بھجوا دیا۔تو اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا چلو آؤ آپ کو چھوڑ آئیں۔کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ حضور اب میں سوار ہو جاتا ہوں، ٹانگے پر سوار ہونا تھا چلا جاؤں گا۔حضور تکلیف نہ فرمائیں۔لیکن حضرت صاحب نے فرمایا ساتھ چلیں گے اور مجھے ساتھ لے کر روانہ ہو پڑے اور پھر ایک مجمع بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ساتھ تھا۔راستے میں دین کی اور بعض علمی باتیں کرتے رہے۔تو کافی دور تک نکل گئے تو کہتے ہیں کہ مجھے حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ تعالی عنہ نے قریب آ کر کان میں کہا کہ آگے ہو کر حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کرو اور اجازت لے لو۔اگر تم نے اجازت نہ لی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو اسی طرح تمہارے ساتھ چلتے چلے جائیں گے۔تو کہتے ہیں اس پر میں نے آگے بڑھ کر اجازت لی تو بڑے لطف سے اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اچھا ہمارے سامنے سوار ہو جاؤ تو اس پر میں یکہ پر بیٹھ گیا اور حضور واپس روانہ ہوئے۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود - از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی - صفحہ 136 تا 139) پھر منشی عبدالحق صاحب کے ساتھ سیر پر تھے واپس لوٹتے ہوئے فرمایا کہ آپ مہمان ہیں ، آپ کو جس چیز کی تکلیف ہو، مجھے بے تکلف کہیں کیونکہ میں تو اندر رہتا ہوں اور نہیں معلوم ہوتا کہ کس کو کیا ضرورت ہے۔آجکل مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے بعض اوقات خادم بھی غفلت کر سکتے ہیں۔آپ اگر زبانی کہنا پسند نہ کریں تو مجھے لکھ کر بھیج دیا کریں۔مہمان نوازی تو میرا فرض ہے۔(سیرت حضرت مسیح موعود - از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی۔صفحہ 142) مفتی صادق صاحب لکھتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا۔غالباً 1897 ء یا