خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 285
285 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم میرے ساتھ شامل ہیں۔اور یہ مہمان نوازی پھر خدا کو بھی اس قدر پسند آتی ہے کہ عرش پر خدا بھی اس کو دیکھ کر مسکراتا ہے۔اور آنحضرت ﷺ کو آپ کے ایسے قربانی کرنے والے خدام کے اس عمل کی خوش ہو کر پھر خبر بھی دیتا ہے۔( بخاری کتاب مناقب الانصار باب و يؤثرون على السهم ولو کان بهم خصاصتہ حدیث نمبر 3798) پھر صحابہ کی مہمان نوازی کے وہ نمونے بھی ہیں جو ایک دو روز کی مہمان نوازی نہیں بلکہ مہاجرین جب ہجرت کر کے مدینہ آئے تو انصار نے ان مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں اپنے آدھے مال کا بھی حصہ دار بنا دیا جن کو خدا تعالیٰ نے تحسین کی نظر سے دیکھتے ہوئے فرمایا کہ يُؤْثِرُوْنَ عَلَى انْفُسِهِمْ (الحشر: 10) کہ خود اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ دوسروں کی خاطر قربانی اس لئے نہیں تھی کہ خود بڑے کشائش میں تھے، اچھے حالات تھے اس لئے مال دے دیا بلکہ خود تنگی میں رہتے ہوئے قربانی کے جذبے سے وہ یہ خدمات سرانجام دے رہے تھے۔رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کا نظارہ ہر وقت ہمیں ان میں نظر آتا ہے۔اپنے بھائیوں کی خدمت پر وہ خوش ہوتے تھے۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ جلسے پر آنے والے مہمان بھی یہاں UK میں تو خاص طور پر خلافت سے محبت اور دین سیکھنے کے لئے آتے ہیں۔اس لئے ان کی خدمت ہمارا فرض ہے۔ہر ایک سے نرمی اور پیار سے پیش آنا ہم پر فرض ہے۔بعض لوگ پہلی دفعہ پاکستان سے یا افریقہ کے ممالک سے آرہے ہیں، پھر مختلف قوموں کے لوگ بھی آ رہے ہیں ، ان سب سے اعلیٰ اخلاق سے پیش آنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض بنتا ہے۔امیر ہو، غریب ہو ہر ایک کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مہمان سمجھ کر خدمت کرنی ہے۔اس سال خلافت کے سوسال پورا ہونے پر مہمانوں کی آمد بھی زیادہ متوقع ہے۔اسی لئے انتظامیہ پہلے سے بڑھ کر کچھ انتظامات بہتر کر رہی ہے۔کارکنان کو بھی پہلے سے بڑھ کر اُن انتظامات کو کامیاب کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔انتظامات چاہے جتنے مرضی ہوں اگر کارکن صحیح طور پر کام نہیں کر رہے تو سب انتظامات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔جس خوشی اور جذبے کے ساتھ مہمان آ رہے ہیں اسی طرح کارکنان اور کارکنات کو ان مہمانوں کو خوش آمدید بھی کرنا چاہئے اور ان کی خدمت پر ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے۔پس مسیح محمدی کی خلافت کے 100 سال پورے ہونے پر کارکنان بھی پہلے سے بڑھ کر خدمت کرنے کا اپنے اندر ایک جوش اور عزم پیدا کریں اور وہ نمونے دکھا ئیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے مہمانوں کے لئے دکھاتے تھے۔آپ اس زمانہ میں جواسوہ ہمارے سامنے قائم کر گئے۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے بڑے حسین اوراق ہیں اور اسی حوالے سے آج میں اس سیرت کے پہلو کے چند واقعات پیش کرنا چاہتا ہوں۔مہمانوں کی خاطر تواضع کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نصیحت فرمائی کہ لنگر خانہ کے مہتمم کو تاکید کر دی جاوے کہ وہ ہر ایک شخص کی احتیاج کو مد نظر رکھے۔مگر چونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اور کام کی کثرت ہے،