خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 282

282 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم رہیں گے اور پھر صرف ماننے والوں کی تعداد ہی نہیں بلکہ حق کے متلاشی لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد آتی رہے گی اور ان کی مہمان نوازی بھی رہے گی۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لنگر خانہ بھی شروع فرمایا تھا اور یہ بھی اہم کاموں میں سے آپ نے ایک اہم کام قرار دیا تھا۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر دنیا کے کونے کونے میں چل رہے ہیں اور جماعتی مراکز کی طرف جہاں جہاں بھی جماعت کے مرکز ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام سننے کے لئے آنے والوں کی توجہ پیدا ہورہی ہے اور پھر جب جلسہ سالا نہ ہوتا ہے تو اس کا ایک اور ہی قسم کا نظارہ ہمیں نظر آتا ہے۔پس یہ مہمان نوازی ایک ایسا کام ہمارے سپر د ہو چکا ہے جس کا کرنا ہر احمدی کے لئے عام طور پر اور خلیفہ وقت اور انتظامیہ کے لئے خاص طور پر فرض ہو چکا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں ہمارے لئے وارنگ بھی ہے کہ اگر تم نے اعلیٰ اخلاق نہ دکھائے تو اللہ تعالیٰ کے انعاموں سے محروم رہنے والے بھی بن سکتے ہو اور یہ خلق اگر اپنے اندر قائم کر لو گے تو یہ خلق قائم کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے والے بن جاؤ گے۔پس وہ تمام کارکنان والنٹیئر ز اور انتظامیہ کے لوگ خوش قسمت ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہے اور انہیں یہ موقع مل رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی عمر کے مرد، خواتین بھی، نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی اور بچے بھی جلسہ کے دنوں میں ایک خاص جوش سے اپنے نام مہمانوں کی خدمت اور جلسہ سالانہ کی متفرق ڈیوٹیوں کے لئے پیش کرتے ہیں۔اور جیسا کہ میں کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ اب ہر ملک میں جلسے ہوتے ہیں، کئی جلسوں میں میں بھی شامل ہوتا ہوں تو ہر قوم کے احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ڈیوٹیاں دینے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں اور خوشی سے پیش کرتے ہیں۔افریقہ کی بھی مثالیں میں دے چکا ہوں کہ کس طرح خوش دلی سے وہ ڈیوٹیاں دیتے ہیں۔پھر امریکہ، کینیڈا میں جلسے ہوئے اور کہیں بھی جب میں گیا ہوں، جہاں بھی جلسے ہوتے ہیں، وہاں بھی ہر طبقے کے لوگ اور ہر عمر کے لوگ مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں اور بڑی خوشی سے ڈیوٹیاں سرانجام دیتے ہیں۔لیکن UK کے جلسہ کی ایک اہمیت بن چکی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں انتظامات کی وسعت ، جوخلافت کی موجودگی کی وجہ سے ہے، باقی دنیا کی نسبت زیادہ ہے اور لوگوں کی نظر بھی اس جلسے پر زیادہ ہوتی ہے۔اپنوں کی بھی اور غیروں کی بھی اور اس لحاظ سے جو ڈیوٹیاں دینے والے ہیں ، بعض قسم کی ڈیوٹیاں بھی ان کے لئے بڑی حساس ہیں اور ظاہر ہے جب یہ جلسہ جیسا کہ میں پہلے کئی دفعہ کہہ چکا ہوں، غیر شعوری طور پر مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے تو میری فکر بھی اس جلسے پر زیادہ ہوتی ہے، لوگوں کی توقعات بھی زیادہ ہوتی ہیں ، ان لوگوں کی جو خاص طور پر باہر سے آتے ہیں، جو دوسرے ملکوں سے مہمان بن کے آ رہے ہوتے ہیں۔ضمناً یہاں یہ بھی بتا دوں کہ اس