خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 279 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 279

279 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم اس کو ریج میں جہاں مختلف مہمانوں کے تاثرات کا ذکر ہے، وہ بے تحاشا ہیں۔ان میں سے ایک دو میں بیان کرتا ہوں۔کیتھولک بشپ نے کہا کہ اخلاقیات کے متعلق جماعت کی تشریح قابل تعریف ہے۔کیلگری کے میئر جو انتہائی شریف النفس انسان ہیں اور جماعت سے بڑا گہرا محبت کا تعلق رکھتے ہیں۔دراصل یہی اپنے وزیر اعظم کو اس فنکشن میں لانے کی بھی وجہ بنے۔ان کے اس سے قریبی تعلقات ہیں۔انہوں نے جماعت کی تعریف کی اور مسجد کے بارہ میں کہا کہ یہ مسجد کیلگری کے افق پر طلوع ہونے والا ایک تابناک اضافہ ہے۔اسی طرح وزیر اعظم نے کہا کہ جماعت احمد یہ اسلام کا حقیقی اور امن پسند چہرہ اجاگر کرتی ہے اور یہ مسجد امن اور سماجی ہم آہنگی کی علامت ہے۔CBC کینیڈا نے اپنی ملکی خبروں میں جو تمام کینیڈا میں نشر کی جاتی ہیں، میرے گزشتہ خطبہ کی خبر دومنٹ تک نشر کی۔خطبہ کا ابتدائی حصہ بھی دیا اور مسجد کی تصویر دی۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر دکھائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنی تصویر کھنچوانے کا مقصد یہی تھا تا کہ نیک لوگ جو چہرہ دیکھ کر پہچانتے ہیں ان تک تصویر پہنچے اور اللہ تعالیٰ ان کو حق پہنچانے کی توفیق دے۔دنیا کے مختلف ممالک سے جو بیعتیں آتی ہیں، ہمارے ذریعہ سے تو بہت ساری بیعتیں نہیں ہو رہی ہو تیں کئی ان میں سے ایسی ہیں جنہوں نے خواب میں کسی بزرگ کو دیکھا ہوتا ہے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر کو دیکھ کر پہچان جاتے ہیں کہ یہی وہ بزرگ تھے جن کے ذریعے سے ہمیں حق پہچانے کی توفیق ملی جنہوں نے یہ یہ کہا۔جس کی وجہ سے توجہ پیدا ہوئی، تلاش پیدا ہوئی، جستجو پیدا ہوئی۔یا بعض دفعہ کسی گھر میں گئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر دیکھ کر یا ایم ٹی اے پر دیکھ کر تجسس پیدا ہوتا ہے اور پھر تحقیق شروع کرتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے کینیڈا میں بڑے وسیع پیمانے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر کے ساتھ احمدیت کے تعارف کا موقع پیدا فرما دیا۔اللہ تعالیٰ نیک فطرت لوگوں کے سینے کھولے۔مسلمان ملکوں میں بھی اور عیسائی ممالک میں بھی حق کو پہچاننے کی ان نیک فطرت لوگوں کو تو فیق عطا فرمائے۔مسلمان ملکوں کے لئے خاص طور پر دعا کرنی چاہئے کہ یہ لوگ نام نہاد علماء کے پیچھے چل کر اپنی دنیا و عاقبت کو مزید خراب کرنے والے نہ بنیں۔اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے سامان پیدا فرمائے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حق کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔عیسائیوں اور دوسرے غیر مسلموں کو بھی اسلام کی خوبصورتی اور حقیقت کو دیکھنے اور سمجھنے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ اسی میں ان لوگوں کی نجات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” اب وقت آتا ہے کہ یکدم یورپ اور امریکہ کے لوگوں کو اسلام کی طرف توجہ ہوگی اور وہ اس مردہ پرستی کے مذہب سے بیزار ہو کر حقیقی مذہب اسلام کو اپنی نجات کا ذریعہ یقین کریں گے“۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 463 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )