خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 277
خطبات مسرور جلد ششم 277 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جولائی 2008 آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے اسلام کی امن پسند اور خوبصورت تعلیم کا ذکر کیا اور اسلام کے بارے میں ان کے دلوں کے شکوک دور کرنے کی کوشش کی۔انہیں یہ بھی بتایا کہ ایک واحد ویگا نہ خدا کو پہچانو کہ اس میں دنیا کی بقا ہے اور یہ حقیقی خدا ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔اس تقریب میں تقریباً ساڑھے پانچ سوکی تعداد میں مہمان شامل تھے۔اونٹاریو صوبہ کے وزیراعلیٰ بھی اس میں شامل تھے۔کئی مرکزی اور صوبائی وزیر بھی تھے۔اسمبلیوں کے ممبر تھے۔وزیر اعظم کے خصوصی نمائندہ تھے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا اثر ہوا۔کئی عیسائی پادریوں نے اور یونیورسٹی کے پروفیسروں اور دوسرے لوگوں نے انفرادی طور پر مل کر اظہار بھی کیا کہ آج اسلام کے بارے میں ہمیں نئی باتیں پتہ چلی ہیں۔اسی طرح کیلگری مسجد کا افتتاح جو جمعہ کو ہوا تھا اس کے اگلے روز ہفتہ کو ایک دعوت کا اہتمام غیروں کے لئے تھا۔اس میں بھی مسجد کے حوالے سے اسلام کا تعارف کروانے اور پیغام پہنچانے کی توفیق ملی۔بڑے غور سے لوگوں نے سب باتوں کو سنا، بڑی توجہ سے سن رہے تھے۔یہ مسجد بھی جیسا کہ میں گزشتہ خطبہ میں بتا چکا ہوں، بڑی خوبصورت مسجد ہے۔جب میں نے اس کی بنیاد رکھی تھی ، اس دن بارش بھی شدید تھی اور سڑکیں بھی ایسی تھیں، علاقہ بڑا عجیب لگ رہا تھا اور میں اس وقت یہ سوچ رہا تھا کہ یہاں مسجد تو بنا رہے ہیں لیکن بظاہر لگتا ہے کہ مسجد کی شایان شان جگہ نہیں ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام فرمایا کہ ان تین سالوں میں اس کے قریب ہائی وے بن گئی۔سڑکیں بڑی خوبصورت بن گئیں۔اس علاقہ کی سڑکیں بھی بہت اچھی ہو گئیں اور بہت سی نئی ڈویلپمنٹ ہوئی۔مسجد کے سامنے ایک خوبصورت پارک بھی بن گیا اس کا بہت بڑا حصہ کونسل نے جماعت کو ہی Maintenance کے لئے دے دیا ہے۔پھر گزشتہ سال وہاں ریلوے سٹیشن بھی بن گیا جو مسجد سے صرف 10 منٹ کے پیدل فاصلے پر ہے اور شہر کی ہر جگہ سے ٹرین وہاں آتی ہے اس لئے وہاں تک پہنچنا بھی آسان ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد دس پندرہ منٹ کی ڈرائیو (Drive) پر اس کے قریب رہتی ہے۔مسجد کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے تمام سہولتوں کے سامان بھی مہیا فرما دیئے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے۔ائر پورٹ بھی وہاں سے 20 منٹ کے فاصلے پر ہے۔اس مسجد نے علاقہ میں بھی اور پورے ملک بلکہ دنیا کی بھی توجہ اپنی طرف کھینچی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ہفتہ کو وہاں مہمان مدعو تھے۔اس میں ملک کے وزیراعظم باوجود اپنی تمام مصروفیات کے ہمارے پروگرام میں شامل ہونے کے لئے آئے۔اس دن انہوں نے بیرون ملک سفر پر جانا تھا اور وہیں سے سیدھا سفر پر روانہ ہو گئے۔انہوں نے مسجد دیکھی۔وہاں فنکشن میں تقریر کی۔جماعت کے متعلق نیک خیالات کا اظہار کیا۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دے۔