خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 276
276 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم امریکہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے کینیڈا کا جلسہ تھا۔کینیڈا میں جماعت کی تعداد کے لحاظ سے جلسہ بھر پور ہوتا ہے۔میں پہلے بھی دو دفعہ جلسہ پر وہاں جا چکا ہوں۔اُس وقت امریکہ کے لوگ بھی وہاں آ جاتے تھے۔اس دفعہ کیونکہ امریکہ سے میں ہو کر گیا تھا اس لئے جو تین چار ہزار کی تعداد عموماً امریکہ سے کینیڈا کے جلسے کے لئے آتی تھی وہ نہیں آئی۔پھر کیلگری میں مسجد کے افتتاح پر جانا تھا وہاں سے یا اس کے قریب کے علاقوں سے بھی کم لوگ آئے۔اس علاقہ میں بھی تقریباً تین چار ہزار کی تعداد تھی۔وہاں فاصلے زیادہ ہیں۔کینیڈا بہت وسیع ملک ہے۔ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے وقت میں بھی دو گھنٹے کا فرق پڑ جاتا ہے۔جہاز کا سفر بھی ٹورانٹو سے کیلگری تک چار گھنٹے کا ہے۔بہر حال کینیڈا کے جلسے کی حاضری ، جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ ان حالات کے باوجود 15 ہزارتھی۔اور کینیڈا کا جلسہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلے بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں ) بڑے آرگنا ئز ڈ طریقے سے ہوتا ہے۔ایک تو وہاں اکثریت پاکستانیوں کی ہے جو پاکستان میں ڈیوٹیاں دے کر تجربہ کار ہو چکے ہیں۔دوسرے وہاں بھی امریکہ کی طرح ایک چھت کے نیچے تقریباً تمام انتظامات ہوتے ہیں۔سوائے کھانا پکانے کے جو پک کر جلسہ گاہ میں چلا جاتا ہے۔بہر حال پکے انتظامات کی وجہ سے بہت سہولت رہتی ہے۔لیکن آپ لوگ یہاں بیٹھ کے پریشان نہ ہوں۔یہ بتا دوں کہ جو محنت کر کے اور عارضی انتظامات سے یو کے جلسے کی رونق ہے ، اس کا ایک اپنا ہی مزا ہے۔چاہے مہمانوں اور میز بانوں دونوں کی حالت بارش میں اور کیچڑ کی وجہ سے خراب ہی ہو رہی ہو لیکن ایک مزا آ رہا ہوتا ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ یہاں بھی وقت آئے گا، ہمارے اپنے انتظامات پکے ہو جائیں گے۔بہر حال کینیڈا کا جلسہ بڑا کامیاب رہا اور اس جلسہ کی وہاں کی پانچ بڑے اخباروں نے بڑے وسیع پیمانے پر کوریج دی۔ان کے پڑھنے والوں کی تعداد ڈھائی ملین ہے۔اس کے علاوہ چھوٹے اخبار ہیں۔ریڈ یوٹیشن نے کوریج دی۔چھ ٹی وی سٹیشنوں نے کوریج دی اور انٹرنیٹ کی سائٹس پر بھی خبریں آتی رہیں۔بہر حال یہ جلسہ خاص طور پر جب جلسہ خلیفہ وقت کی موجودگی میں ہوتا ہے تو جماعتی تعارف اور احمدیت کے پیغام پہنچانے کا زیادہ ذریعہ بنتا ہے۔اور اس سال تو اللہ تعالیٰ نے خاص ہوا چلائی، امریکہ میں بھی اور کینیڈا میں بھی۔احمدیوں کو جوان ملکوں میں رہتے ہیں، خود بھی حیرت تھی (جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں) کہ ان کی توقعات سے بڑھ کر جماعت کا تعارف دنیا تک پہنچا ہے۔کینیڈا میں اس دفعہ خلافت جو بلی کے حوالے سے ایک زائد پروگرام کینیڈا کی جماعت نے یہ بھی رکھا تھا جس میں ایک ریسیپشن (Reception) دعوت تھی ، جس میں اسمبلیوں کے نمائندے،سرکاری افسران اور دوسرے پڑھے لکھے اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔اس میں بھی میں نے قرآن اور