خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 275
275 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم امریکہ میں ایک ہوٹل میں ایک ریسیپشن (Reception) بھی تھی۔اچھے پڑھے لکھے لوگ مختلف طبقوں کے وہاں آئے ہوئے تھے۔وہاں میں نے قرآن کریم ، آنحضرت ﷺ کے اقوال اور احادیث اور اسوہ رسول ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کی رو سے جہاد کی حقیقت کے بارے میں بیان کیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کے اپنے حوالے سے بھی یہ پیغام دیا کہ آپ نے فرمایا کہ میں عیسی ابن مریم ہوں۔میں نے انہیں کہا کہ عیسی ابن مریم ، حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت میں آچکے ہیں اور یہ بھی کہا کہ امریکہ ایک بڑی طاقت ہے اور اس حیثیت سے یہ کوشش کرے کہ انصاف قائم ہوتا کہ دنیا میں امن قائم ہو سکے اور انصاف ہوگا تو حق ادا ہوگا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سب لوگوں پر اس کا بڑا اچھا اثر ہوا۔مختلف لوگوں نے میرے پاس آ کر اس بات کا اظہار کیا کہ آج ہمیں نئی باتیں پتہ چلی ہیں۔اصل میں تو کوئی نئی چیز نہیں ہے۔قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ کا حقیقی رخ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دکھایا ہے۔جس کو آج کل کے مُلاں غلط رنگ دے کر اسلام کی بدنامی کا باعث بنا رہے ہیں۔جماعت امریکہ کا جلسہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت کامیاب ہوا۔جماعتی روایات کے مطابق وہاں بھی تمام شعبہ جات کام کرتے ہیں لیکن اس دفعہ انہوں نے وہاں جگہ لی تھی۔ایک بڑا علاقہ ہے جس میں مختلف فنکشنز اور Exhibitions ہوتے ہیں۔اس میں بڑے بڑے ہال ہیں۔اس لحاظ سے یہ سہولت رہی کہ جلسہ گاہ، کھانا پکانے کی جگہ، کھانا کھانے کے ہال اور دوسرے شعبہ جات، نمائش وغیرہ ایک ہی چھت کے نیچے آ گئی۔اور ان کی نمائش جو خاص طور پر خلافت کے موضوع پر تھی ، اس لحاظ سے بھی مجھے اچھی لگی کہ اس میں انفرادیت تھی۔حضرت آدمسے لے کر حضرت مسیح موعود کی خلافت کے تمام دوروں کی تاریخ اس میں انہوں نے بیان کی۔امریکہ میں یہ میرا پہلا دورہ تھا اور تقریباً دس سال کے بعد خلیفہ وقت کا دورہ تھا۔ایک نئی نسل جوان ہو کر جماعت کے کاموں میں شامل ہو گئی ہے۔شعور نہ رکھنے والے بچے جو کچھ سال پہلے ، 10 سال پہلے، بہت چھوٹے تھے۔وہ جوانی کی عمر میں داخل ہو رہے ہیں۔پھر مغربی ماحول کا بھی اپنا ایک اثر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں جماعت کے ساتھ اخلاص و وفا کا تعلق ہے۔خلافت کے ساتھ گہری وابستگی ہے۔جلسہ کے کاموں میں اور ڈیوٹیوں میں بڑی تندہی سے سب نے کام کیا۔یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی طرف توجہ پھیرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے کیسے کیسے پیارے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے ہیں۔امریکہ میں ایک خاصی تعدادافریقن امریکن احمدیوں کی ہے۔اسی طرح کچھ سفید امریکن بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے کاموں میں، ڈیوٹیوں میں ہر ایک بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا تھا۔اور خلافت کے لئے محبت ، ان مقامی احمدیوں کے دلوں سے بھی پھوٹی پڑتی تھی۔ان کی آنکھوں میں ایک پیار اور احترام خلافت کے لئے نظر آتا تھا۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اخلاص و وفا میں بڑھائے۔