خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 272 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 272

خطبات مسرور جلد ششم 272 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جولائی 2008 نہیں تھا۔یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو آپ کا پیغام پہنچا رہا ہے، ورنہ ہم تو جیسا کہ میں نے کہا کوشش بھی کرتے تو اس طرح جماعت کا تعارف اور آپ کی آمد کا اعلان نہ کر سکتے اور پھر خاص طور پر ان ملکوں میں جہاں اسلام کو ویسے بھی بڑی تنقید کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔امریکہ میں اس کے پورا ہونے کا مشاہدہ ہم نے اس طرح کیا اور یقیناً ہر غور کرنے والے دل نے اس بات کو محسوس کیا ، پنسلوانیا کے شہر اور دار الحکومت ہیر سبرگ (Harrisburg) جہاں ہمارا جلسہ سالانہ ہوا ، اس سال جیسا کہ میں نے کہا کہ خلافت جوبلی کے حوالے سے کچھ شہرت بھی جلسے کو ملی۔بلکہ یہ کہنا چاہئے جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ہوا چلائی کہ اس حوالے سے جماعت کا تعارف ہو۔تو بہر حال یہاں کی سٹیٹ اسمبلی نے کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بعض ممبران کے کہنے پر جماعت کو اس شہر میں جلسے کے حوالے سے خوش آمدید کہنے اور خلافت کے سوسال پورے ہونے پر مبارک دینے کے لئے ریزولیوشن پاس کرنے کا فیصلہ کیا لیکن وہاں اسمبلی کے ایک ممبر نے اس پہ اعتراض اٹھایا کہ یہ نہیں ہوسکتا۔کوئی کثر عیسائی تھا، ویسے بھی امریکہ میں یہاں کی نسبت عیسائیت کے معاملے میں کافی بڑی تعداد میں سختی اور کٹر پن ہے۔بہر حال اس نے ریزولیوشن کی مخالفت کی۔یہاں یہ واضح کر دوں کہ ہماری طرف سے اس بارہ میں کوشش نہیں کی گئی تھی کہ ہمارے سوسالہ فنکشن کے موقع پر ہو اور خلیفہ وقت آ رہا ہے اس لئے یہ ہونا چاہئے۔ان لوگوں میں سے چند کو خود ہی خیال آیا اور توجہ پیدا ہوئی اور انہوں نے اسمبلی میں پیش کیا۔تو میں کہہ رہا تھا کہ ایک ممبر نے مخالفت کی اور اس دلیل کے ساتھ مخالفت کی کہ کیونکہ یہ لوگ حضرت عیسی کو خدا نہیں مانتے اس لئے کوئی جواز نہیں کہ ان کو خوش آمدید کہا جائے۔اس سے یہ کہلوانا بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے تھا کیونکہ اگر یہ خاموشی سے ہو جاتا تو یا اسمبلی کو پتہ ہوتا یا ہمارے پاس ایک کاغذ کا ٹکڑا آ جاتا یا ہلکی سی ایک اخبار میں خبر لگ جاتی۔اخلاقاً تو ہم ان کے ممنون ہوتے کہ انہوں نے ہماری پذیرائی کی اور یہ اخلاق دکھانا اور شکر یہ ادا کرنا بھی ہمارا فرض ہے اور اسلام کا حکم ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ مخالفت بھی خدا تعالیٰ کی تقدیر تھی کیونکہ اس ممبر اسمبلی کے اس سوال کو اخباروں اور میڈیا نے خوب اچھالا اور آج کل تو انٹرنیٹ پر ہر قسم کی ویسے بھی خبر آتی ہے اور اس پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں سے بے شمار لوگوں کو اس بات کے خلاف کھڑا کر دیا۔ایک بحث شروع ہو گئی کہ ایک طرف تو ہم سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔یہودیوں نے بھی سوال اٹھا دیا کہ ہم بھی عیسی کو خدا نہیں مانتے بلکہ یہ لوگ تو مخالفت میں بھی بہت زیادہ بڑھے ہوئے ہیں۔پتہ نہیں حضرت عیسی کے بارے میں کیا کچھ کہہ جاتے ہیں۔سیاسی مقاصد کے لئے بے شک یہ لوگ آج کل چپ ہوں لیکن دل تو ان کے خلاف ہیں۔جبکہ ہم احمدی حضرت عیسی کو قابل احترام نبی مانتے ہیں۔بہر حال ان یہودیوں نے بھی سوال اٹھایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا بھی امریکہ میں رہنے اور آزادی کا حق سلب کرنے کی آئندہ کوششیں ہوں گی۔