خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 257 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 257

257 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 27 جون 2008 میں یہی ہے کہ اپنے آپ کو اس طرح سے کھڑا کرے کہ گویا خدا کو دیکھ رہا ہے اور یا یہ کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ہر قسم کی ملونی اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو جاوے اور اس کی عظمت اور اسی کی ربوبیت کا خیال رکھے۔ادعیہ ماثورہ اور دوسری دعائیں خدا تعالیٰ سے بہت مانگے اور بہت تو بہ واستغفار کرے اور بار بار اپنی کمزوری کا اظہار کرے تاکہ تزکیہ نفس ہو جاوے اور خدا تعالیٰ سے پکا تعلق پیدا ہو جاوے اور اسی کی محبت میں محو ہو جاوے۔اور یہی ساری نماز کا خلاصہ ہے 66 ( تفسیر سورۃ فاتحہ از حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ 195) پھر آپ فرماتے ہیں: ”نماز اصل میں ایک دعا ہے جو سکھائے ہوئے طریقہ سے مانگی جاتی ہے۔یعنی کبھی کھڑے ہونا پڑتا ہے کبھی جھکنا اور کبھی سجدہ کرنا پڑتا ہے۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 335۔جدید ایڈیشن - مطبوعہ ربوہ ) پس خدا تعالیٰ کا قرب اور اس سے سچا تعلق ہے جو ہم میں سے ہر ایک کا مطمح نظر ہونا چاہئے اور جب یہ سچا تعلق ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ پھر اپنے بندے کو تمام فکروں سے آزاد کر دیتا ہے وہ دنیا کی نعمتوں سے محروم نہیں رہتے لیکن دنیا کی نعمتیں ان کا مقصود نہیں ہوتیں۔انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی وہ ایسی طاقت نظر آتے ہیں جن سے مخالف ہمیشہ خوفزدہ رہتے ہیں۔پس یہ معیار ہیں جو ہم میں سے ہر ایک کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” جو شخص بچے جوش اور پورے صدق اور اخلاص سے اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔یہ یقینی اور سچی بات ہے کہ جو خدا کے ہوتے ہیں خدا ان کا ہوتا ہے اور ہر ایک میدان میں ان کی نصرت اور مدد کرتا ہے بلکہ ان پر اس قدر انعام واکرام نازل کرتا ہے کہ لوگ ان کے کپڑوں سے بھی برکتیں حاصل کرتے ہیں“۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 387۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد اللہ تعالیٰ نے عبادت کرنے والے لوگوں سے ایک بہت بڑے انعام کا وعدہ کیا ہے یعنی خلافت کا۔عبادت کرنے والوں سے ہی خلافت کے انعام کا بھی وعدہ ہے۔پس آج ہر مرد اور عورت کی ، ہر جوان اور بوڑھے کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی عبادت کے معیار بڑھانے کی طرف توجہ کرے۔خلافت کی برکات کا فیض انہی کو پہنچے گا جو خود بھی عبادت گزار ہوں گے اور اپنی نسلوں میں بھی یہ روح پھونکیں گے۔اللہ تعالیٰ کی نعمت سے فیض پانے والے وہی لوگ ہوں گے جو خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔اس آخرین کے دور میں جب شرک کی طرف رغبت دلانے کے لئے نئے نئے طریق ایجاد ہو گئے ہیں۔جب