خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 248 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 248

248 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 20 جون 2008 ایک اور اہم بات جو یہاں امریکی احمدی معاشرے میں فکر انگیز طور پر بڑھ رہی ہے اور یہ بھی تقویٰ کی کمی ہے اور وہ یہ ہے کہ شادیاں کرنے کے بعد ان کا ٹوٹا۔کبھی لڑکی لڑکے کو دھوکہ دیتی ہے تو کبھی لڑکا لڑکی کو دھوکہ دیتا ہے۔کبھی ایک دوسرے کے خاندان ایک دوسرے پر زیادتی کر رہے ہوتے ہیں اور عموماً زیادتی کرنے والوں میں لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے جو اس مکروہ فعل میں ملوث ہوتے ہیں۔شادیاں ہو جاتی ہیں تو پھر پسند نا پسند کا سوال اٹھتا ہے۔اگر پسند دیکھنی ہے تو شادی سے پہلے دیکھیں۔جب شادی ہو جائے تو پھر شریفانہ طریق یہی ہے کہ پھر اس کو نبھائیں۔خصوصاً جب بچیوں کی زندگیاں اس طرح برباد کی جاتی ہیں تو زیادہ پریشانی ہوتی ہے۔گھر والوں کے لئے بھی اور جماعت کے لئے بھی اور میرے لئے بھی۔پس ہمارے لڑکوں اور لڑکیوں کا اگر پسند کا سوال ہو تو یہ معیار ہونا چاہئے کہ دین کیسا ہے؟ میں یہ نہیں کہتا کہ کفو نہ دیکھیں یہ بھی ضروری ہے۔مگر کفو میں بھی دینی پہلو کو نمایاں حیثیت ہونی چاہئے۔آنحضرت ﷺ نے ہمیں یہی فرمایا ہے کہ جب شادیوں کی پسند دیکھنی ہو تو بہترین رشتہ وہ ہے جس میں دینی پہلو دیکھا جاتا ہے۔پس ایک تو بہت اہم چیز یہی ہے اس کو دیکھیں اور ایسے رشتے قائم کریں جو پھر قائم رہنے والے رشتے ہوتے ہیں۔اس کے ساتھ بچیوں کو بھی میں کہتا ہوں کہ وہ دین میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔اپنی روحانیت کو بڑھائیں تا کہ کسی بچی پر یہ الزام نہ لگایا جائے کہ یہ بے دین ہے اس لئے میرا اس کے ساتھ گزارا نہیں ہوسکتا۔دوسرے دین پر ترقی سے لڑکی میں اتنی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہو جاتا ہے اور اس تعلق کی وجہ سے پھر اللہ تعالیٰ فضل فرماتا ہے اور مشکل حالات سے انہیں نکالتا ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا آج کل یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور امریکہ میں خاص طور پر یہ بنتا جارہا ہے۔مجھے نہیں پتہ کہ ابتدا میں قصور لڑکی کا ہوتا ہے یالڑ کے کا۔کچھ نہ کچھ قصور دونوں کا ہوتا ہوگا۔لیکن جو باتیں سامنے آتی ہیں ، آخر میں لڑکا اور اس کے گھر والے عموماً زیادہ قصور وار ہوتے ہیں۔بعض دفعہ بچے ہو جاتے ہیں اور پھر میاں بیوی کی علیحدگی ہوتی ہے۔ایک دوسرے کو بچوں کے ذریعے سے جذباتی تکلیف پہنچا کر تنگ کیا جاتا ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کا بڑا واضح لم ہے کہ نہ باپ کو اور نہ ماں کو بچوں کے ذریعہ سے تنگ کرو، تکلیف پہنچاؤ۔اور پھر یہ نہیں کہ پھر تنگ ہی کرتے ہیں بلکہ بعض ماؤں سے بچے چھین لیتے ہیں اور جب میں نے اس بارے میں کئی کیسز میں تحقیق کروائی ہے تو مجھے پھر جھوٹ لکھ دیتے ہیں۔اگر وہ جھوٹ لکھ کر مجھے دھوکہ دے بھی دیں تو خدا تعالیٰ کو تو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔وہ تو عالم الغیب ہے۔تو یہ سب کچھ بھی صرف اس لئے ہوتا ہے کہ تقویٰ میں کمی ہے اور اس میں بعض ماں باپ بھی اکثر جگہ قصووار ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا یہ تعداد بڑھ رہی ہے جو مجھے فکر مند کر رہی ہے۔آپ کے کسی عہدیدار نے مجھے کہا کہ لڑکیوں سے کہیں کہ جماعت میں ایسے ہی لڑکے ہیں ان سے گزارا کریں۔تو ایک تو ایسے عہدیداروں سے یہ میں