خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 232
خطبات مسرور جلد ششم 232 خطبه جمعه فرموده 13 جون 2008 اپنی تمام زندگی بھی ماتھ رگڑ تا رہے تو حق بندگی ادا نہیں ہوسکتا۔لیکن کوشش تو ہونی چاہئے ، تقویٰ کی راہوں کی طرف قدم تو بڑھنے چاہئیں۔تقویٰ کیا ہے؟ ایک جگہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔عجب ، خود پسندی، مال حرام سے پر ہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 50 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس ایک مومن کا کام ہے کہ ان برائیوں سے بچے تبھی وہ ان لوگوں کے زمرہ میں شمار ہوگا جو تقویٰ پر قدم مارنے والے ہیں اور جن کے لئے اللہ تعالیٰ بھی اپنی جناب سے پھر ایسے ایسے ذریعوں سے ضروریات پورا کرنے کے سامان پیدا فرماتا ہے کہ انسان خود حیران ہو جاتا ہے کہ یہ کیسے ہوا؟ مَنْ يَّتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (الطلاق: 3) کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ باریک سے بار یک گناہ جو ہے اسے خدا تعالیٰ سے ڈر کر جو چھوڑے گا خدا تعالیٰ ہر ایک مشکل سے اسے نجات دے گا۔یہ اس لئے کہا کہ اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم کیا کریں، ہم تو چھوڑ نا چاہتے ہیں مگر ایسی مشکلات آپڑتی ہیں کہ پھر کرنا پڑ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ وہ اُسے ہر مشکل سے بچالے گا“۔( البدر جلد 2 نمبر 12 مورخہ 10 اپریل 1903ء صفحہ 92) جو اقتباس میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پڑھا ہے اس حوالے سے اُن لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جو ان مغربی ملکوں میں سوشل ہیلپ (Social Help) لیتے ہیں۔مختلف ملکوں میں اس مدد کے جو بھی نام ہیں، یہ حکومت کی طرف سے ملنے والی مدد ہے جو یا بیروزگاروں کو ملتی ہے یا کم آمدنی والوں کو تا کہ کم از کم اس معیار تک پہنچ جائیں جو حکومت کے نزدیک شریفانہ طور پر زندگی گزارنے کے لئے روزمرہ ضروریات پورا کرنے کا معیار ہے۔مغربی حکومتیں، بعض ان میں سے بڑے کھلے دل کے ساتھ یہ مدد دیتی ہیں اور برطانیہ کی حکومت بھی اس بارے میں قابل تعریف ہے شہریوں کی بڑی مدد کرتے ہیں۔لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ بعض لوگ جو چھوٹا موٹا کاروبار بھی کرتے ہیں یا ایسی ملازمت کرتے ہیں جو پوری طرح ظاہر نہیں ہوتی یا ٹیکسی وغیرہ کا کام کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی حکومت کو غلط معلومات دے کر اس سے مدد بھی لیتے ہیں۔یا مکان بھی خریدا ہوا ہے لیکن حکومت سے مکان کا کرایہ بھی لیتے ہیں۔تو یہ بات تقویٰ سے بعید ہے۔اس طرح کر کے وہ دوہرے بلکہ کئی قسم کے جرم کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ایک تو حکومت کو صحیح آمد نہ بتا کر حکومت کا ٹیکس چوری کرتے ہیں۔پھر نہ صرف یہ ٹیکس کی چوری ہے بلکہ دوسروں کے اُس ٹیکس کو بھی کھا رہے ہوتے ہیں جو دوسرے لوگ حکومت کے معاملات چلانے اور شہریوں کو سہولتیں مہیا کرنے کے لئے حکومت کو دیتے ہیں۔پھر جھوٹ کے