خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 230
خطبات مسرور جلد ششم 230 (24) خطبه جمعه فرموده 13 جون 2008 فرمودہ مورخہ 13 جون 2008 ء بمطابق 13 احسان 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن برطانیہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ خطبہ کے مضمون کو ہی آگے چلاتے ہوئے قرآن کریم کی آیات کے حوالہ سے رزق اور صفت رزاق کے بارے میں آج بھی کچھ کہوں گا۔میں نے گزشتہ خطبہ میں ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہی ہوں جو تمہیں رزق مہیا کرتا ہوں اور نہ صرف انسانوں کو بلکہ ہر قسم کی مخلوق کو جسے بھی کھانے کی حاجت ہے۔اور جہاں تک انسان کا تعلق ہے، بحیثیت اشرف المخلوقات اسے ماڈی رزق کی بھی ضرورت ہے اور روحانی رزق کی بھی ضرورت ہے۔ایک مومن کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو اور اس کے احکامات پر عمل کرو ،تقویٰ کو مدنظر رکھو، تو ایسے ذریعوں سے اسے رزق ملتا رہے گا جس کا ایک غیر مومن تصور بھی نہیں کرسکتا۔کئی خط مجھے احمدیوں کے ملتے ہیں جن میں مختلف لوگوں نے مختلف ملکوں میں بسنے والے احمدیوں نے اپنے اپنے تجربات اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر کیا ہوتا ہے کہ کس کس طرح اللہ تعالیٰ ان کے کاروباروں میں برکت ڈال کر انہیں نواز رہا ہے۔بعض دفعہ ایک کام کے ہونے یا کسی کا روبار میں اس قدر منافع ہونے کی امید بھی نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ غیر معمولی فضل فرماتا ہے اور توقع سے کئی گنا زیادہ منافع ہو جاتا ہے۔اور پھر لکھنے والے لکھتے ہیں کہ یہ بات ہمارے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔حقیقت میں ایک حقیقی مومن کی یہی نشانی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس پر فضل فرمائے تو فوراً اس کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے۔وہ شکر گزار بنتا ہے اور اسے بننا چاہئے کیونکہ ایک مومن کو اس بات کا ادراک ہے کہ وَمَنْ يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ (لقمان: 13) یعنی جو بھی شخص شکر کرتا ہے اس کے شکر کرنے کا فائدہ اس کو پہنچتا ہے اور یہی ایک مومن کی نشانی ہونی چاہئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی جب اپنی اولاد کے لئے رزق کی دعا کی تو ساتھ ہی یہ عرض کی کہ وہ تیرے شکر گزار رہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں اس کا ذکر ملتا ہے وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (ابراهیم : 38) یعنی انہیں پھلوں میں سے رزق عطا فرما تا کہ وہ تیرے شکر گزار بنیں۔پس کا روبار میں برکت، تجارتوں میں برکت، زراعت میں برکت ، یہ سب پھل ہیں جو رزق میں اضافے کا