خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 224 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 224

224 خطبہ جمعہ فرموده 6 جون 2008 خطبات مسرور جلد ششم دعا کی۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور وہ حالات ختم ہوئے۔تو دشمن یہ جانتا تھا کہ آپ سچے ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ کے پاس آنا اور دعا کی درخواست کرنا۔اور یہ بھی جانتا تھا کہ جس روحانی رزق کو مہیا کرنے کے آپ دعویدار ہیں مادی رزق بھی اُسی خدا سے وابستہ ہے جس نے آپ کو بھیجا ہے۔لیکن پھر بھی مخالفت سے باز نہیں آئے اور بعد میں اپنی مخالفت میں بڑھتے چلے گئے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے سامان پیدا فرمائے اور سب زیرنگیں ہو گئے۔اس زمانے میں بھی رزق کی کمی تھی۔آج بھی یہ دنیا کوسوچنا چاہئے کہ آج کل بھی خوراک کی کمی اور مہنگائی کا شور ہے۔غور کرنے کا مقام ہے کہ اگر یہ حالات پرانے زمانے میں ہو سکتے تھے تو اب نہیں ہو سکتے ؟ کیا یہ روحانی رزق کی طرف تو عدم توجہ نہیں ؟ جس کی وجہ سے یہ حالات ہیں۔امریکہ میں بھی جو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے، معاشی لحاظ سے مضبوط سمجھا جاتا ہے اپنی خوراک کی کمی اور معاشی گراوٹ کا شور پڑ گیا ہے۔وہ ان حالات میں اس کو بہتر نہیں کر سکا۔وہاں بھی مہنگائی کا شور مچا ہوا ہے۔باوجود اس کے کہ ایسی مختلف قسم کی نئی نئی فصلیں آگئی ہیں جو کھانے والی خوراک کی فصلیں ہیں جو آج سے پچاس سال پہلے کی نسبت دس سے بیس گنا زیادہ پیداوار دیتی ہیں۔پھر بھی امریکہ سمیت آج کل دنیا میں ہر طرف اس کی کمی کا شور ہے۔چاول کی کمی کا رونا رویا جارہا ہے۔دوسری چیزوں کی مہنگائی کا رونا رویا جا رہا ہے۔یہ سب اس لئے ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے پانی نہ بر سے تو فصلیں بھی نہیں ہو سکتیں اور جب دنیا اللہ تعالیٰ سے دور ہٹ جائے بلکہ بغاوت پر آمادہ ہو جائے تو یہ جھٹکے لگتے ہیں۔ایک مسلمان کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کھول کر بیان کر دیا ہے کہ رزاق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کی طرف توجہ دینا جہاں تمہارے روحانی رزق اور آخرت کے رزق میں اضافے کا باعث بنے گا، وہاں تمہارے اس دنیا کے مادی رزق بھی اس سے مہیا ہوں گے۔پس مسلمانوں کو تو دوسروں سے بڑھ کر اپنی حالتوں کے جائزے لینے چاہئیں اور غور کرنا چاہیئے۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ اپنے رزاق ہونے کا ذکر کرتے ہوئے یوں فرماتا ہے کہ وَكَـاتِـنْ مِنْ دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ۔وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ (العنكبوت:61) اور کتنے زمین پر چلنے والے جاندار ہیں جو اپنا رزق نہیں اٹھاتے پھرتے۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو انہیں رزق عطا کرتا ہے اور تمہیں بھی۔اور وہ خوب سننے والا اور دائی علم رکھنے والا ہے۔یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ نیک اعمال کرنے والوں اور دین پر قائم رہنے والوں کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو بھی حالات ہو جائیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے دین پر قائم رہتے ہوئے اُن احکامات پر عمل کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں۔یہ خوف نہ رکھو کہ اگر ہم نے دنیا داروں کی بات نہ مانی، اگر بڑے لوگوں یا بڑی حکومتوں کی پیروی نہ کی تو ہمارے رزق کے دروازے بند ہو جائیں گے۔اس لئے مومن کا کام یہ ہے کہ ہمیشہ