خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 8
خطبات مسرور جلد ششم 8 خطبہ جمعہ فرموده 4 جنوری 2008 حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں بتایا تھا کہ ایک تو مالی قربانی کی رفتار ہے۔دوسرے یہ تعبیر کی تھی اور دعا کی تھی کہ یہ تعبیر یہ ہو کہ وقف جدید کے تحت جو تینوں ممالک خاص کام کر رہے ہیں ان میں انقلابی تبدیلی پیدا ہو اور جماعت تیزی سے ترقی کرے۔ان تمام باتوں کی اہمیت کے پیش نظر میں بھی ان جماعتوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ حالات میں جس تیزی سے تبدیلی پیدا ہورہی ہے یہ ملک اپنے تبلیغ اور تربیت کے کام کو بھی خاص طور پر سمجھیں اور کوشش کر کے اس رفتار کو تیز کرنے کی کوشش کریں اور جب اللہ تعالیٰ کی تائید اور دعا بھی ساتھ ہو تو کوئی نہیں جو اس رفتار ترقی کو روک سکے۔اس نے بڑھنا ہی ہے۔پس آگے بڑھیں اور جہاں مالی قربانیوں میں مثالیں قائم کر رہے ہیں وہاں دیہاتوں میں تبلیغی اور تربیتی کام کو بھی تیز کر دیں۔تینوں ملکوں میں بھی اور افریقہ میں بھی وقف جدید کے تحت خاص منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔اللہ کرے کہ جو تعبیر حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمائی تھی اس کو آج ہم تیزی سے پورا ہوتے دیکھیں۔اس کے لئے مالی قربانی بھی ایک اہم حصہ ہے۔کیونکہ مالی ضروریات بھی بڑھیں گی جب کام میں تیزی پیدا ہوگی۔پس تمام ممالک اس میں مدد کریں۔بچوں کی تربیت کے لئے جیسا کہ میں نے کہا تھا بچوں کو بھی بطور خاص توجہ دلائیں۔ان کو بھی احساس ہو کہ یہ سب انقلاب اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر سے آ رہا ہے اس میں ہمارا بھی حصہ ہے۔اس طرح گزشتہ دس سال میں جتنے احمدی ہوئے ہیں ، جو بیعتیں ہوئی ہیں، انہیں بھی بطور خاص وقف جدید میں شامل کریں۔میں نے نو مبائعین سے رابطے بحال کرنے کے لئے کہا ہوا ہے۔بہت سارے رابطے ضائع ہو گئے۔اس پر بعض ملکوں میں بہت اچھا کام ہورہا ہے۔ان رابطوں کی بحالی کے لئے بھی مالی قربانی کی ضرورت ہے اور جب رابطے بحال ہوتے ہیں تو ان کو بھی مالی قربانی کی عادت ڈالیں اور ان کو اس کے لئے وقف جدید میں شامل کریں۔اگر غریب بھی ہیں تو چاہے ٹوکن کے طور پر معمولی چندہ دیں لیکن مالی قربانی میں شامل ہونا چاہئے۔مالی قربانی کی عادت پڑے گی تو پھر یہ تقویٰ کی ترقی کا باعث بھی بنے گی۔اللہ تعالیٰ نے تقویٰ میں بڑھنے والوں کے لئے عبادات کے ساتھ قربانی کا بھی ذکر فرمایا ہے جس میں مالی قربانی بھی شامل ہے۔پس مالی قربانی بھی دلوں کی پاکیزگی اور تقویٰ میں بڑھنے کے لئے ضروری چیز ہے۔پس دعاؤں اور قربانیوں سے تقویٰ میں بڑھیں اور خلافت کی نئی صدی کا استقبال کریں اور اس میں داخل ہوں۔ان قربانیوں کی عادت جو پڑے گی ، یہ جاگ جو بچوں میں اور نئے آنے والوں میں لگے گی ، قربانیوں کا احساس اور تقویٰ میں بڑھنے کا احساس جو تمام احمد یوں میں پیدا ہو گا یہ جہاں آئندہ انقلاب میں سب کو حصہ دار بناتے ہوئے خوشخبریاں دے گا اور ترقیات دکھائے گا۔انشاء اللہ ، وہاں فوج در فوج آنے والوں کو بھی قربانیوں کی اہمیت دلاتے ہوئے مالی قربانیوں میں شامل ہونے کی ترغیب دلائے گا۔اور یوں جب خالصتاً للہ ان عبادتوں اور