خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 9
خطبات مسرور جلد ششم 9 خطبہ جمعہ فرموده 4 جنوری 2008 قربانیوں کے اعلیٰ معیار کے حصول کی کوشش ہورہی ہوگی تو یہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید کے قیام کا باعث بنے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والی ہوگی۔آنحضرت ہو کے جھنڈے کو تمام دنیا میں گاڑنے کا باعث بن رہی ہو گی۔پس اس جذبے سے اپنے بھی جائزے لیں اور بچوں اور نو مبائعین کو بھی خاص طور پر وقف جدید میں شامل کرنے کی کوشش کریں تا کہ ان مقاصد کا حصول کر کے جن کا میں نے ذکر کیا ہے ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں۔اب میں حسب روایت وقف جدید کے کوائف پیش کروں گا یعنی دنیا کے مختلف ممالک کا موازنہ اور وصولی پیش ہو گی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجموعی طور پر وقف جدید میں 24لاکھ 27 ہزار پاؤنڈ مالی قربانی ہوئی ہے اور یہ جو وصولی ہے گزشتہ سال سے تقریباً دولاکھ پاؤنڈ زیادہ ہے۔تو وقف جدید کے پائے کے اونچا ہونے کی ایک تو یہ ظاہری شکل ہمیں نظر آتی ہے کہ گزشتہ سال سے وقف جدید کی وصولی دولاکھ پاؤنڈ زیادہ ہے۔جبکہ نومبر میں میں نے جب تحریک جدید کا اعلان کیا تھا تو اس میں گزشتہ سال سے تحریک جدید میں جو وصولی تھی وہ ایک لاکھ دس ہزار پاؤنڈ زیادہ تھی۔یعنی وقف جدید کا اس سال کا جو اضافہ ہے وہ تحریک جدید کی نسبت کافی زیادہ ہے تقریباً دو گنا۔دنیا میں وقف جدید کی قربانی میں شامل جو پہلی دس جماعتیں ہیں ان میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے، پھر امریکہ ہے، برطانیہ نمبر تین پہ ہے۔نمبر 4 پر جرمنی نمبر پانچ پر کینیڈا نمبر چھ پہ ہندوستان اور نمبر سات پر انڈونیشیا، نمبر آٹھ پہ بلجیم، نمبر نو پہ آسٹریلیا اور نمبر دس پہ فرانس کینیڈا اور جرمنی کا بڑا معمولی فرق ہے۔کینیڈا اگر ذرا سا زور لگائے تو میرا خیال ہے آرام سے چوتھی پوزیشن آ سکتی ہے۔پاکستان کے حالات کے بارے میں ایک اخبار میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا کہ 2007 ء پاکستان کی تاریخ کا سب سے بدترین سال ہے اور معاشی لحاظ سے بھی بہت برا سال تھا۔بہت سے جائزے پیش کئے گئے تھے۔اس کے باوجود کہ غربت انتہاء کو پہنچ گئی۔کاروباری لحاظ سے ، معاشی لحاظ سے پاکستان بہت پیچھے تھا لیکن پھر بھی پاکستانی احمدیوں کے معیار قربانی نہیں گرے۔اس میں پہلے سے بہتری پیدا ہوئی ہے۔اس دفعہ میں سوچ رہا تھا کہ گزشتہ دنوں دسمبر میں جو حالات ہوئے ہیں، کراچی کے حالات بھی بہت زیادہ خراب تھے تو شاید اس سال پاکستان کی پوزیشن کوئی نہ ہو یا شاید وصولیاں کم ہوں لیکن اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ جب میں نے ترقی دینی ہے تو پھر مددبھی فرشتوں کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔باوجود اس کے کہ ہر روز ہم نظارے دیکھتے ہیں اور میں خاص طور پر جماعتی ترقی کے نظارے دیکھتا ہوں اس لئے اپنی اس سوچ پر شرمندگی بھی ہوئی کہ خدا تعالیٰ پر بھی حسن ظن نہیں رکھا۔اللہ رحم کرے۔