خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 221 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 221

خطبات مسرور جلد ششم 221 (23) خطبه جمعه فرموده 6 جون 2008 ہوں۔فرمودہ مورخہ 06 جون 2008ء بمطابق 06 / احسان 1387 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ایک صفت رزاق ہے۔مختلف اہل لغت نے اس صفت کے جو معنی کئے ہیں ، وہ میں بیان کرتا علامہ جمال الدین محمد کی لغت لسان العرب ہے، وہ الرازق والرزاق کے تحت لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کیونکہ وہی تمام مخلوق کو رزق دیتا ہے اور وہی ہے جو مخلوقات کو ظاہری اور باطنی رزق عطا کرتا ہے۔اقْرَبُ الْمَوَارِد ایک لغت کی کتاب ہے ، اس میں بھی الرزاق کے تحت لکھا ہے کہ لفظ رزاق صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہی استعمال ہوتا ہے، غیر اللہ کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔اسی طرح مفردات امام راغب میں یہ لکھا ہے کہ رزاق صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہی بولا جاتا ہے۔امام راغب عموماً قرآنی آیات کی روشنی میں اپنی لغت کی بنیادرکھتے ہیں، اسی بنیاد پر معنی بیان کرتے ہیں۔بہر حال بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ رزاق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کے معنی کیا ہیں؟ مختلف اہل لغت نے کیا معنی کئے ہیں۔عموماً ہم یہ لفظ استعمال کرتے ہیں، ہماری زبان میں استعمال ہوتا ہے ، اُردو میں بھی ، پنجابی میں بھی لیکن بڑے محدود معنوں کے لحاظ سے جبکہ اس کے معنوں میں بڑی وسعت ہے۔لفظ رزق کے تحت امام راغب نے اس کے تین معنی بیان کئے ہیں، ایک یہ کہ رزق مسلسل ملنے والی عطا کو کہتے ہیں خواہ وہ دنیا کی عطا ہو یا آخرت کی عطا ہو۔دوسرے یہ کہ کبھی حصہ کے لئے ”رزق استعمال ہوتا ہے۔حصہ میں اچھائی بھی ہوسکتی ہے اور برائی بھی ہوسکتی ہے۔تیسرے یہ کہ کبھی خوراک کو بھی رزق کہتے ہیں جو پیٹ میں جاتی ہے اور غذا کا کام دیتی ہے۔پھر لسان العرب کے مطابق ہر اس چیز کو رزق کہتے ہیں جس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہو۔اس کا مطلب عطا کرنا بھی ہے۔بارش کو بھی رزق کہتے ہیں۔أَقْرَبُ الْمَوَارِد کے مطابق ہر وہ چیز جس سے فائدہ اٹھایا جائے وہ رزق ہے تنخواہیں وغیرہ یہ سب رزق میں آتی ہیں۔