خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 219 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 219

219 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 مئی 2008 خطبات مسرور جلد ششم لئے دیا ہے۔سودا ہو گیا ہے۔اس ملک میں جہاں عیسائیت کی خلافت اب تک قائم ہے اللہ تعالیٰ نے خلافت احمد یہ کے سوسال پورے ہونے پر ایک ایسی جگہ عطا فرمائی ہے جہاں انشاء اللہ تعالیٰ مسیح محمدی کے غلاموں کا ایک مرکز قائم ہو گا اور ایک مسجد بنے گی جہاں سے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان ہوگا۔انشاء اللہ۔اسی طرح ہمارا یہ جوفنکشن تھا جو یہاں ہوا، اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ باوجود مولویوں کے شور کے پاکستان میں بھی جماعتوں نے اس میں شمولیت اختیار کی اور اپنے طور پر بھی جو ان کے پروگرام تھے وہ پورے کئے۔گو کہ اس کے بعد آج یا کل پابندی لگ گئی۔لیکن جماعت کو وہاں اُس طرح سے محرومی کا وہ احساس نہیں رہا جس طرح 1989 ء میں صد سالہ جو بلی پر ہوا تھا کہ ساری تیاریوں کے باوجود حکومت کی طرف سے ایک آرڈینینس آیا تھا جس کے تحت جماعت احمد یہ کسی بھی قسم کا خوشی کا پروگرام نہیں کر سکتی تھی۔نہ ہی بچوں میں ارد گرد مٹھائی اور ٹافیاں تقسیم کرسکتی تھی۔یہ حال تھا اس ملک کا اور ہے اور اس وقت فکر یہی تھی کہ کیونکہ اب بھی پنجاب میں وہی حکومت تھی جو اس زمانے میں تھی۔لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور وہ دور گزر گیا اور 27 مئی کا جلسہ بھی جس طرح منانا تھا منایا، دوسرے فنکشن بھی کئے۔کھانے اور مٹھائی وغیرہ بھی تقسیم کرنی تھی وہ بھی ہو گئی۔حال ان کا یہ ہے، ان مولویوں کی عقل کا تو یہ حال ہے کہ یہ کیونکہ خاموشی سے ہو گیا تھا زیادہ شور نہیں تھا اس لئے بعضوں کو پتہ بھی نہیں لگا اور ان کا خیال تھا کہ شاید حکومت نے روک دیا ہے۔یا حکومت کی طرف سے اعلان بھی اخباروں میں آگئے لیکن اتنی سختی نہیں ہوئی۔بہر حال مولویوں نے یہ بیان دیئے کہ قادیانیوں کو یہ فنکشن نہیں کرنے دیا گیا اور بچوں کو مٹھائی تقسیم نہیں کرنے دی گئی اور خوشی نہیں منانے دی گئی تو یہ حکومت نے بہت اہم کام سرانجام دیا ہے اور امت مسلمہ کو اس بات سے تباہی سے بچالیا ہے۔اُمت مسلمہ کی تباہی صرف بچوں کو مٹھائی کھلانے سے ہوئی تھی۔یہ تو ان کی عقلوں کا حال ہے اور نہیں جانتے کہ اس وجہ سے خود تباہی کے گڑھے کی طرف جا رہے ہیں۔اس لئے پاکستان کے لئے بھی دعا کریں۔ان ملاؤں کو تو شاید عقل نہیں آئی لیکن جو عوام ہیں ان کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو سیدھے راستے پر چلائے۔سیاستدان جو وہاں کے ہیں وہ صرف اپنی خود غرضیوں میں نہ پڑے رہیں بلکہ حکومت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔غریبوں کا حق ادا کرنے والے ہوں۔اس وقت جو پاکستان کے حالات ہیں وہ انتہائی ناگفتہ بہ ہیں۔خزانہ خالی ہے۔کھانے کو کچھ نہیں لیکن اس کے باوجود لوٹ مار مچی ہوئی ہے۔قدم قدم پر رشوت لی جاتی ہے۔عوام بھو کے مر رہے ہیں اُس کی کوئی پرواہ نہیں۔صرف اپنی کرسیوں کی آج کل ان کو پرواہ پڑی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ عوام پر بھی رحم کرے۔تو جہاں ہم خوشی مناتے ہیں دنیا کے دوسرے احمدی بھی خوشی منارہے ہیں ، خلافت جو بلی بھی منارہے ہیں،شکرانے کے طور پر دوسرے پروگرام کر رہے ہیں، پاکستان کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔اللہ تعالیٰ ان غریبوں کی حالت بھی سنوارے۔