خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 213 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 213

213 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 مئی 2008 کے نہ ٹوٹنے کی ضمانت خود خدا تعالیٰ نے دی۔اللہ تعالیٰ نے آج اپنے فضل سے احمدیوں کو اس برتن کے کڑے کو مضبوطی سے پکڑایا ہوا ہے جس میں مسیح محمدی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے تازہ بتازہ روحانی پانی بھر دیا ہے۔وہ زندگی بخش پانی جس کو پینے سے روحانیت کے اعلیٰ سے اعلیٰ معیار ایک مومن طے کر سکتا ہے۔پھر اس مضبوط کڑے کو پکڑنے کا ایک یہ بھی مطلب ہے کہ اس پکڑے رہنے والوں کے ایمان ہمیشہ سلامت رہیں گے۔مسیح محمدی کی غلامی میں آکر اس سے عہد بیعت باندھنے والے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والے اپنے ایمان میں ہمیشہ ترقی کرتے چلے جائیں گے۔ہر حالت میں ہر مخالفت کے دور میں اس کڑے کے پکڑے رہنے والوں کے ایمان محفوظ رہیں گے۔اس کڑے سے چھٹنے والا مومن اپنی جان تو دے سکتا ہے لیکن اس کڑے کو نہیں چھوڑ تا جس کے چھوڑنے سے اس کے ایمان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔چنانچہ جماعت احمدیہ کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ مخالفت کی آندھیاں حقیقی مومنین کو ان کے ایمان کو اپنی جگہ سے نہ ہلا سکیں۔ماؤں کے سامنے بیٹے قتل کئے گئے ، بیٹوں کے سامنے باپوں کو آہستہ آہستہ اذیت دے کر مارا گیا، شہید کیا گیا، باپوں کے سامنے بیٹوں کو شہید کیا گیا۔پھر احمدیت کو چھوڑنے کے لئے انتہائی اذیت سے کئی احمد یوں کو گزرنا پڑا۔آہستہ آہستہ ٹارچر دے کر مارا گیا۔اور یہ ڈور کے واقعات نہیں ہیں۔اس سال بھی کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں۔لیکن جس ایمان پر وہ قائم ہو چکے تھے یہ اذیتیں اُن کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہیں لا سمیں۔پس آج جب ہم جو بلی کی خوشی منارہے ہیں تو دراصل یہ خوشی خلافت کے سوسال پورے ہونے پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش کی خوشی ہے اور اس سو سال میں جو لہلہاتے باغ اس انعام سے چھٹے رہنے کی وجہ سے ہمیں اللہ تعالیٰ نے عطا کئے ، اس کی خوشی میں ہے۔ان لہلہاتے باغوں کو دیکھ کر جب ہم خوش ہوں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں تو ان شہدائے احمدیت کو بھی یا درکھیں اور ان کے لئے اور ان کی اولادوں کے لئے بھی دعائیں کریں جنہوں نے اپنے خون سے ان باغوں کو سینچا ہے۔اپنے ایمان کی مضبوطی کی وہ مثالیں قائم کی ہیں جو تاریخ کے سنہری باب ہیں۔غزوہ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ایسا سبزہ زار جو ہمیشہ سرسبز رہتا ہے۔بارش کی کمی بھی اس پر کبھی خشکی نہیں آنے دیتی۔پس یہ ایسا سبزہ زار ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان کی وجہ سے جماعت کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے جو ہمیشہ سرسبز رہنے کے لئے ہے۔جس کو شبنم کی نمی بھی لہلہاتی کھیتیوں میں اور سرسبز باغات کی شکل میں قائم رکھتی ہے۔پس اس عُروة ونقسی کو پکڑے رہیں گے تو انعامات کے وارث بنتے چلے جائیں گے۔