خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 214
214 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 مئی 2008 خطبات مسرور جلد ششم اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا کہ جس نے شیطان کی باتوں کا انکار کیا اور ایمان پر قائم رہا تو فرمایا کہ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا (بقره:257) یعنی ایک نہایت قابل اعتماد مضبوط چیز کو مضبوطی سے پکڑ لیا جو بھی ٹوٹنے والا نہیں اور پھر آخر پر فرمایا وَ اللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (بقرہ: 257) اللہ بہت سنے والا اور بہت جاننے والا ہے۔پس جو لوگ دلوں کی صفائی کے ساتھ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے اس انعام سے چھٹے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اُس سے اِس مضبوط کڑے سے چھٹے رہنے کے لئے دعائیں مانگتے رہیں گے تو ایسے لوگ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بہت دعائیں سننے والا ہے۔وہ ہمارے دلوں کا حال بھی جانتا ہے۔وہ نیک نیتی سے کی گئیں دعاؤں اور کوششوں کو ضائع نہیں کرے گا اور ہمارے دل بھی ایمان سے لبریز رہیں گے اور ہم اللہ تعالیٰ کے انعام سے فیضیاب بھی ہوتے رہیں گے۔ہمارا ایمان بھی ، ہم میں سے ہر ایک کا ایمان بھی مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا اور معمولی کمزوریوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ہمارے نیک نیت ہونے کی وجہ سے ہم میں بھی اور ہماری نسلوں میں بھی ایسا ایمان پیدا کرتا چلا جائے گا جس سے ہماری نسلیں بھی اور ہم بھی لہلہاتی فصلوں کے وارث بنتے چلے جائیں گے۔پس آج خلافت کے سو سال پورے ہونے پر ہم جو نظارے دیکھ رہے ہیں، ایمانوں کو تازہ کر رہے ہیں، جماعت کی وحدت اور ترقی کی ہری بھری فصلیں ہمیں نظر آ رہی ہیں۔غیروں کو بھی عجیب سا لگ رہا ہے اور بعض حاسدوں کو حسد میں بڑھا بھی رہا ہے ، جیسا کہ پاکستان کے حالات ہیں۔یہ بھی اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعو علیہ الصلوۃ والسلام کو مانے اور خلافت سے چھٹے رہنے کی وجہ سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: پہلے نبیوں کے معجزات ان کے مرنے کے ساتھ ہی مر گئے مگر ہمارے نبی ﷺ کے معجزات اب تک ظہور میں آ رہے ہیں اور قیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل وہ سب آنحضرت مویی کے معجزات ہیں“۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 468-469) اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہمیشہ آنحضرت ا کے ساتھ بھی اور اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ بھی ہر احمدی کو حقیقت میں چمٹائے رکھے۔اور آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے ساتھ وفا کا تعلق رکھنے والا بنائے رکھے۔اور خلافت احمدیہ کی حفاظت کے لئے قربانی کے عہد کو پورا کرنے والا بنائے رکھے۔اور آج ہم نے جو نظارے دیکھے، جو ایک اکائی دیکھی، جو وحدت دیکھی ، خلافت سے محبت و وفا کے جذبات کا اظہار و یکجہتی جو غیروں کے لئے ایک متاثر کرنے والی چیز اور ایک معجزہ تھا اسے قائم رکھنے کے لئے جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے حضور ہم جھکنے والے بنے رہیں تا کہ اس