خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 206
206 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 مئی 2008 خطبات مسرور جلد ششم برا نام نہیں ہوتا جو ان کا نہیں رکھا جاتا۔وہ نبی اور مامور ہر ایک بات کی برداشت کرتے اور ہر دکھ کو سہہ لیتے ہیں۔لیکن جب انتہا ہو جاتی ہے تو پھر بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے دوسری قوت ظہور پکڑتی ہے۔اسی طرح پر رسول اللہ ہی اللہ کو ؟ قسم کا دکھ دیا گیا ہے اور ہر قسم کا برا نام آپ کا رکھا گیا ہے۔آخر آپ کی توجہ نے زور مارا اور وہ انتہا تک پہنچی جیسا اسْتَفْتَحُوا سے پایا جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدِ ابراھیم : 15) تمام شریروں اور شرارتوں کے منصوبے کرنے والوں کا خاتمہ ہو گیا۔یہ توجہ مخالفوں کی شرارتوں کے انتہاء پر ہوتی ہے کیونکہ اگر اؤل ہی ہو تو پھر خاتمہ ہو جاتا ہے۔مکہ کی زندگی میں حضرت احدیت کے حضور گرنا اور چلا نا تھا جو اس حالت تک پہنچ چکا تھا کہ دیکھنے والوں اور سننے والوں کے بدن پر لرزہ پڑ جاتا ہے۔مگر آخر مدنی زندگی کے جلال کو دیکھو کہ وہ جو شرارتوں میں سرگرم اور قتل اور اخراج کے منصوبوں میں مصروف رہتے تھے سب کے سب ہلاک ہوئے اور باقیوں کو اس کے حضور عاجزی اور منت کے ساتھ اپنی خطاؤں کا اقرار کر کے معافی مانگنی پڑی۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 424۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر بھی رحم کرے جس کی اکثریت اپنی اس تاریخ کو دیکھتے ہوئے ، اپنے ان واقعات کو دیکھتے ہوئے مظلوم بنے کی بجائے ظالم بنتے ہوئے ظلم کے قریب جارہی ہے اور امام وقت کو بھی نہیں پہچانتی۔یہ مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس لئے دی ہے کہ اس زمانے میں بھی یہی حال ہورہا ہے۔مسلمان مسیح و مہدی کو نہیں مان رہے۔غیر مسلم آنحضرت ﷺ کے متعلق جس طرح کر رہے ہیں یہ ساری چیزیں اگر اصلاح نہ ہو تو ہر مذہب اور ہر قوم کو تباہی کی طرف لے جارہی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نہایت خیر خواہی سے کہ رہا ہوں۔خواہ کوئی میری باتوں کو نیک ظنی سے سنے یا بدنی سے ، مگر میں کہوں گا کہ جو شخص مصلح بنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ پہلے خود روشن ہو اور اپنی اصلاح کرے۔یہ جو آجکل اصلاح کرنے والے بنے ہوئے ہیں ان کو یادرکھنا چاہئے۔دیکھو یہ سورج جو روشن ہے پہلے اس نے خود روشنی حاصل کی ہے۔میں یقینا سمجھتا ہوں کہ ہر ایک قوم کے معلم نے یہی تعلیم دی ہے لیکن اب دوسرے پر لاٹھی مارنا آسان ہے لیکن اپنی قربانی دینا مشکل ہو گیا ہے۔پس جو چاہتا ہے کہ قوم کی اصلاح کرے اور خیر خواہی کرے وہ اس کو اپنی اصلاح سے شروع کرے۔قدیم زمانے کے ریشی اور اوتار جنگلوں اور بہوں میں جا کر اپنی اصلاح کیوں کرتے تھے۔وہ آجکل کے لیکچراروں کی طرح زبان نہ کھولتے تھے جب تک خود عمل نہ کر لیتے تھے۔یہی خدا تعالیٰ کے قرب اور محبت کی راہ ہے۔جو شخص دل میں کچھ نہیں رکھتا اس کا بیان کرنا پر نالہ کے پانی کی طرح ہے جو جھگڑے پیدا کرتا ہے۔اور جونور معرفت اور عمل سے بھر کر بولتا ہے وہ بارش کی طرح ہے جو رحمت سمجھی جاتی ہے۔۔۔