خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 198
198 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرموده 16 مئی 2008 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی جبار کا لفظ بندوں کے لئے استعمال فرمایا ہے تو اس رنگ میں ہی استعمال فرمایا ہے جسے منفی رنگ کہہ سکتے ہیں۔اب چند وہ آیات میں سامنے رکھتا ہوں جن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ایک مفسر نے اس حوالے سے جبر کی یا انسان کے بارے میں جبار کی درج ذیل اقسام بیان فرمائی ہیں۔نمبر ایک کہ مسلط ہونے والا۔اس کی دلیل میں وہ کہتے ہیں وَمَا أَنتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ (ق : 46) یعنی تو ان پر زبر دستی کرنے والا نگران نہیں ہے۔دوسرے عظیم جسامت والا۔إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ (المائدہ: 23) یقیناً ان میں ایک سخت گیر قوم ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے سرکشی اختیار کرنے والا۔وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا (مریم: 33) اور مجھے سخت گیر نہیں بنایا گیا۔بہت زیادہ لڑنے والا جیسا کہ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ (الشعراء: 131) ہے۔یعنی زبردست بنتے ہوئے گرفت کرتے ہوئے اور ان تُرِيدُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْاَرْضِ (القصص: 20) یعنی تو یہ چاہتا ہے کہ ملک میں دھونس جماتا پھرے۔سومسلط ہونے والے کے ضمن میں جس آیت کا حوالہ میں نے دیا ہے، یہ سورۃ کہف کی آیت نمبر 46 ہے۔مکمل آیت یوں ہے۔نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ۔فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يُخَافُ وَعِيْدِ (ق : 46 ) یعنی ہم اسے سب سے زیادہ جانتے ہیں جو وہ کہتے ہیں اور تو ان پر زبر دستی اصلاح کرنے والا نگران نہیں ہے۔پس قرآن کے ذریعہ اسے نصیحت کرتا چلا جا جو میری تنبیہ سے ڈرتا ہے۔پس یہ حکم ہے آنحضرت ﷺ کے ماننے والوں کو بھی کہ تمہارا کام پیغام پہنچا دینا ہے۔زبردستی سے کسی کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ جب اپنے پیاروں کے حق میں نشان دکھاتا ہے تو پھر انکار کرنے والوں کو خیال آتا ہے کہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے بعض سزائیں مل رہی ہیں لیکن بعض بد قسمت پھر بھی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔پاکستان میں بھی مختلف آفات کے بعد لکھنے والوں نے اخباروں میں کالم کے کالم لکھے ہیں کہ لگتا ہے ہماری غلطیوں کی پاداش میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔لیکن اللہ کی آواز پر کان نہیں دھرتے ، اپنی آنکھیں نہیں کھولتے۔لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ کا ہمیں یہ حکم ہے کہ تمہارا کام تنبیہ کرنا اور پیغام پہنچانا ہے۔پس انسانی ہمدردی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت دنیا کو راستی کی طرف بلاتے رہنا ہمارا کام ہے۔اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ وعدہ ہے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا اور اس کو ہم ہر روز پورا ہوتے دیکھتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ تمہارے جو مانے والے ہیں ان کا کام ہے کہ اس پیغام کو پہنچاتے رہو۔اس کے نتائج پیدا کرنا میرے ذمہ ہے۔اس کے لئے ذریعہ نکالنا میرے ذمہ ہے۔ان کو استعمال کرنا تمہارا کام ہے۔اس کے نتیجے نکالنے، دلوں کو فتح کرنا، خدا تعالیٰ کا کام ہے۔پس جو کام