خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 199
خطبات مسرور جلد ششم 199 خطبہ جمعہ فرموده 16 مئی 2008 ہمارے سپر د ہے وہ ہمیں کرتے چلے جانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔پھر اللہ تعالیٰ نے سورۃ ھود میں نافرمانوں اور سرکشوں کو اس زمرہ میں بیان فرمایا ہے۔وہ جبار بنتے ہیں۔جیسا کر فرمایا وَتِلْكَ عَادٌ۔جَحَدُوْا بِايَتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوْا أَمْرَ كُلَّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ (هود: 60) اور یہ ہیں عاد جنہوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کر دیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر سخت جابر اور سرکش کے حکم کی پیروی کرتے رہے۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے ذکر فرمایا ہے جس سے عاد کا نیکیوں سے انکار ثابت ہوتا ہے۔رسول کی نافرمانی کرتے ہیں اور دنیاوی جاہ و حشمت والوں کو سب کچھ سمجھتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سرکش لوگ ہیں۔اور پھر اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان بے وقوفوں کو اس ناشکری کی وجہ سے سزا ملی جن کی یہ پیروی کرتے رہے۔اور جن کو وہ جابر اور اونچا مقام دلانے والا اور حفاظت کرنے والا سمجھتے رہے وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہ آ سکے۔تو یہ سبق ہے جو پچھلی قوموں کو دے کر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ آئندہ بھی یہ قوموں کو یا درکھنا چاہئے۔پھر سورۃ شعراء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ (الشعراء: 131) اور جب تم گرفت کرتے ہو تو زبردست بنتے ہوئے گرفت کرتے ہو۔یہاں پھر عاد کا ذکر ہے کہ کس طرح غلبہ کی صورت میں تم لوگ اس تہذیب کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہو۔جس قوم پر قبضہ کر لو اسے انتہائی ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہو اور اپنی بڑائی اور طاقت کا اظہار کرتے ہو۔اپنی جنگی طاقت اور قوت کی وجہ سے چاہتے ہو کہ ہر قوم تمہارے زیر نگیں ہو جائے۔لیکن اللہ کے رسول نے انہیں ڈرایا کہ اللہ کویہ حرکتیں پسند نہیں ہیں۔خدا سے ڈرو اور اصلاح کرو۔آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بعض بڑی طاقتیں اسی اصول پر چل رہی ہیں۔گوسیاست کی وجہ سے بعض دفعہ مدد کے نام پر قبضے جمائے جاتے ہیں لیکن بڑائی اور تکبر صاف بتارہا ہوتا ہے کہ دل میں کچھ اور ہے اور ظاہر کچھ اور کیا جارہا ہے اور اصل مقصد قبضہ اور تسلط ہے۔اصل مقصد اپنی حکومت قائم کرنا ہے۔اصل مقصد اپنے زیر نگیں کرنا ہے اور پھر ظالمانہ طور پر ان پر گرفت کر کے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پھر سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔پہلے تو کچھ کہا جاتا ہے اور پھر اسی گرفت کی وجہ سے سزاؤں میں پھنسایا جاتا ہے۔پھر آج کل بعض حکومتیں اور بدقسمتی سے اسلامی مملکتیں کہلانے والی جن کو قرآن کریم کی تعلیم پر غور کرتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن اس کے بجائے سرکشی اور ظلم میں بڑھ رہی ہیں۔پہلے تو پاکستان میں ظلم ہوتا تھا۔پھر حکومتیں جو بھی وقت کی مختلف حکومتیں رہیں معصوم احمدیوں پر ظلم کرتی رہیں۔اب انڈونیشیا میں بھی گزشتہ کچھ عرصہ سے یہ ظلم ہو رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم طاقت والے ہیں کہ جس طرح چاہے احمدیوں کے ساتھ سلوک کریں۔اُن کو سزائیں دیں، اُن کی عورتوں بچوں پر ظلم کریں ، اُن کی جائیدادوں کو جلا