خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 197
خطبات مسرور جلد ششم 197 خطبہ جمعہ فرموده 16 مئی 2008 سمجھ لیتے ہیں۔مثلاً قانون شاہی جائز رکھتا ہے کہ ایک جہاز کو بچانے کے لئے ایک کشتی کے سواروں کو تباہی میں ڈال دیا جائے اور ہلاک کیا جائے مگر خدا کو تو یہ اضطرار پیش نہیں آنا چاہئے۔پس اگر خدا پورا قادر اور عدم سے پیدا کرنے والا نہ ہوتا تو وہ یا تو کمزور راجوں کی طرح قدرت کی جگہ ظلم سے کام لیتا اور یا عادل بن کر خدائی کو ہی الوداع کہتا۔بلکہ خدا کا جہاز تمام قدرتوں کے ساتھ بچے انصاف پر چل رہا ہے۔پھر فرمایا السَّلامُ یعنی وہ خدا جو تمام عیبوں اور مصائب اور سختیوں سے محفوظ ہے بلکہ سلامتی دینے والا ہے۔اس کے معنی بھی ظاہر ہیں کیونکہ اگر وہ آپ ہی مصیبتوں میں پڑتا۔لوگوں کے ہاتھ سے مارا جاتا اور اپنے ارادوں میں ناکام رہتا تو اس بدنمونہ کو دیکھ کر کس طرح دل تسلی پکڑتے کہ ایسا خدا ہمیں ضرور مصیبتوں سے چھڑا دے گا۔پھر فرمایا کہ خدا امن کا بخشنے والا ہے اور اپنے کمالات اور توحید پر دلائل قائم کرنے والا ہے۔اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بچے خدا کا ماننے والا کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہوسکتا اور نہ خدا کے سامنے شرمندہ ہوگا کیونکہ اس کے پاس زبر دست دلائل ہوتے ہیں۔لیکن بناوٹی خدا کا ماننے والا بڑی مصیبت میں ہوتا ہے۔وہ بجائے دلائل پیش کرنے کے ہر ایک بے ہودہ بات کو راز میں داخل کرتا ہے تاہنسی نہ ہو اور ثابت شدہ غلطیوں کو چھپانا چاہتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبَرُ یعنی وہ سب کا محافظ ہے اور سب پر غالب اور بگڑے ہوئے کا بنانے والا ہے اور اس کی ذات نہایت ہی مستغنی ہے“۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 373-375) تو یہ ہے وہ خدا جس کا اس آیت سے پتہ لگتا ہے جو میں نے تلاوت کی۔اس میں اللہ تعالیٰ کی وہ تمام صفات بیان ہوئی ہیں جو بندے کو اس کے قریب تر لانے والی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے رحم کا وارث بناتی ہیں۔وہ بادشاہ ہے۔ہر غلطی سے پاک ہے۔ہر کمزوری سے پاک ہے۔ہر برائی سے پاک ہے۔جو اس کی طاقت ہے وہ منبع ہے ہر قسم کے اور مکمل امن کا۔بندے کو ہر قسم کے خطرات سے بچانے والا اور حفاظت میں رکھنے والا ہے اور سب پر نگران ہے۔تمام طاقتوں والا اور غالب ہے۔ہر ٹوٹے کام کو بنانے والا ہے اور ہر نقصان کو پورا کرنے والا ہے۔وہ ہر ضرورت سے بالا ہے اور ہر ایک کی ضرورت کو پورا کرنے والا ہے۔پس ان طاقتوں کے خدا پر جبر کے وہ معنی نہیں کئے جا سکتے جو عموما کئے جاتے ہیں یا بندے کے بارے میں کئے جاتے ہیں۔یہ اس پر چسپاں ہو ہی نہیں سکتے۔کیونکہ عارضی طاقتوں ، وقتی حکومتوں کی تو ان لوگوں کو ضرورت ہے جو عارضی لوگ ہیں۔خدا تو ہمیشہ کے لئے ہے، ہمیشہ سے طاقتور ہے اور طاقت کا منبع ہے اور اس کے مقابلے میں جیسا کہ میں نے کہا جب بندے کی طرف یہ صفت منسوب ہوتی ہے تو اس کے معنی جیسا کہ ہم نے دیکھا بے رحم، تکبر کی وجہ سے نصیحت قبول نہ کرنے والا ، زبردستی اپنی بات منوانے والا اور جھگڑا کرنے والا ہے۔