خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 194
خطبات مسرور جلد ششم 194 (20) خطبہ جمعہ فرموده 16 مئی 2008 فرمودہ مورخہ 16 مئی 2008ء بمطابق 16 ہجرت 1387 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَنَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ (الحشر : 24) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ : وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔وہ بادشاہ ہے، پاک ہے، سلام ہے، امن دینے والا ہے، نگہبان ہے، کامل غلبہ والا ہے ، ٹوٹے کام بنانے والا ہے اور کبریائی والا ہے۔پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ایک صفت جبار ہے جیسا کہ میں نے جو آیت تلاوت کی ہے اور اس کا ترجمہ پڑھا ہے، اس میں اس کا ذکر ہے۔خدا تعالیٰ کی ذات کے بارے میں جب جبار کا لفظ آتا ہے تو اس کے معنی اس سے مختلف ہوتے ہیں جب یہ لفظ بندے کے لئے استعمال ہو جیسا کہ اس کے ترجمے سے بھی ظاہر ہے۔اہل لغت نے اس لفظ کے جو معنی کئے ہیں، پہلے میں وہ بیان کرتا ہوں۔مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں جو الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ کہا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کا نام الجَبَّارُ اہل عرب کے قول جَبَرْتُ الْفَقِیر یعنی میں نے فقیر کو نوازا کے مطابق ہے اور یہ نام الْجَبَّار اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ایسی ذات ہے جو لوگوں پر اپنی متعدد علماء سے نعماء نازل کرتا ہے، اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔یہ آگے لکھتے ہیں کہ الجَبَّارُ انسان کی صفت کے طور پر اس شخص کے حق میں استعمال ہوتا ہے جو ایسے متکبرانہ دعاوی کرتا ہے جن کا وہ مستحق نہیں ہوتا اور انسان کے بارہ میں جبار کا لفظ صرف مذمت کے لئے ہی استعمال ہوتا ہے۔پھر لغت کی ایک کتاب لسان العرب ہے اس میں لکھا ہے، الجَبَّادُ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے یعنی اپنی مخلوق کو اپنے منشاء کے مطابق اوامر و نواہی پر چلانے والا۔یہاں یہ بھی واضح ہو جائے کہ اس میں زبردستی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے بُرا اور بھلا بندے کے سامنے رکھ دیا ہے کہ نیکیوں پر چلو گے تو نیک جزا پاؤ گے اور اگر برائیاں کرو گے تو برائیوں کی سزا قانون قدرت کے مطابق ملے گی۔لیکن اللہ تعالیٰ کی ایک صفت رحمت کی بھی ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری