خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 192

192 خطبه جمعه فرموده 9 مئی 2008 خطبات مسرور جلد ششم نائیجیریا میں 1940ء میں ایک گروپ جو بڑی تعداد میں تھا اور امیر لوگ تھے، وہاں اس وقت کے امیر اور مشنری انچارج سے ناراض ہوئے اور جماعت کے خلاف ہوئے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ان سے کہا کہ یا تو اطاعت کرو یا جماعت سے باہر ہو جاؤ تو وہ اپنی مسجدیں وغیرہ لے کر باہر ہو گئے۔وہاں پر لیس کے ایک نمائندے نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کس طرح ہوا تھا؟ اس پر میں نے کہا کہ اس سے کیا فرق پڑا؟ جماعت تو اب یہاں بھی ترقی کر رہی ہے اور دنیا میں بھی ترقی کر رہی ہے۔جبکہ ان علیحدہ ہوئے لوگوں کی تو کوئی حیثیت نہیں ہے۔لیکن ان لوگوں کو خود بھی اب احساس پیدا ہورہا ہے۔وہ آہستہ آہستہ کسی بہانے سے جماعت کے قریب آتے جا رہے ہیں۔ان کے امام اور ایک اور بزرگ مجھے ملنے آئے۔ان کو میں نے کہا کہ اب تو ہر چیز روشن اور واضح ہو کر سامنے آ رہی ہے۔تم یہاں نائیجیریا میں بھی دیکھ رہے ہو اور دنیا میں بھی دیکھ رہے ہو۔اس لئے اب ضد چھوڑو اور آ جاؤ کیونکہ جماعت کی ترقی اور برکات خلافت سے وابستہ ہیں۔بظاہر تو بڑے آرام سے بات سن کر گئے۔اب دیکھیں اللہ تعالیٰ ان کے سینے کھولے۔یہاں ایک بات میں وہاں کے مبلغین کو بلکہ دنیا کے سب مبلغین کو بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اپنے اخلاق کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے میں مزید ترقی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔خود بھی یا درکھیں اور اپنے بیوی بچوں کو بھی بتائیں کہ اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا ہے تو اپنے اعلیٰ نمونے قائم کرنا ہر ایک کا فرض ہے۔پہلے سے بڑھ کر مقامی لوگوں سے پیار اور محبت کا تعلق رکھیں، خاص طور پر افریقہ میں رہنے والے۔آپ کے نمونے اور عمل مقامی احمدیوں کے لئے مثال بنتے ہیں۔پہلے شروع میں ، ابتداء میں جو مشنریز ہمارے گئے ،مبلغین گئے ، ان میں سے صحابہ بھی تھے انہوں نے بڑی قربانیاں کی ہیں۔اپنی نیکی اور تقویٰ کے اور ہمدردی انسانیت کے بڑے اعلیٰ نمونے دکھائے ہیں اور ایک نام پیدا کیا ہے۔تو یہ معیار ہیں جو ان لوگوں نے قائم کئے اور یہ کم از کم معیار ہر ایک کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جماعت کے اخلاص و وفا اور فدائیت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ر بعض اوقات جماعت کا اخلاص اور محبت اور جوش ایمان دیکھ کر خود ہمیں تعجب اور حیرت ہوتی ہے، یہاں تک کہ دشمن بھی تعجب میں ہے“۔اور جب دشمن تعجب میں ہو تو حسد میں بڑھتا ہے۔نئے نئے طریقے نقصان پہنچانے کے تلاش کرتا ہے۔اس افریقہ کے دورہ کی بھی اور ویسے بھی جب جماعتی ترقی کی خبر میں دشمن تک پہنچتی ہیں تو وہ ہر طریقہ آزماتا ہے کہ کس طرح جماعت کو نقصان پہنچائے۔ایم ٹی اے کے ذریعہ سے اب جبکہ تمام دنیا یہ نظارے دیکھ رہی ہے تو ہمیں بھی حاسدوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوتے ہوئے اس کے آگے جھکنے کی پہلے سے زیادہ