خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 191 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 191

191 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرموده 9 مئی 2008 کے درمیان میں حائل ہونے والے۔یہ تو خیریت ہوئی کہ وہ عقلمند تھے، فوراد بک گئے اور ایک طرف ہو گئے لیکن وہاں کی اتنی زور آور عورتیں ہیں کہ کوئی بعید نہیں تھا کہ اٹھا کر باہر پھینک دیتیں اور جوش میں ویسے بھی انسان میں طاقت زیادہ آ جاتی ہے۔میں نے مسجد میں جب انہیں تھوڑی دیر کے بعد کہا کہ خاموش ہو کے بیٹھ جاؤ تو تب سارے احمدی جو سینکڑوں کی تعداد میں تھے وہ خاموش ہوئے۔جب انہیں کہا کہ پروگرام میں یہاں آنا شامل نہیں تھا اور صرف تمہاری وجہ سے یہاں آیا ہوں تو اس کے بعد جو انہوں نے فلک شگاف نعرے لگائے ہیں، لگتا تھا کہ مسجد کی چھت اڑ جائے گی۔ان کے نعرے سنے اور کچھ میں نے ان سے باتیں کیں۔جوش ٹھنڈا ہوا تو پھر ان سے اجازت لے کر وہاں سے آیا۔ہم وہاں سے چلے تو دو تین راتیں راستے میں گزرتی گئیں۔ان کا مرکز ابو جا شہر ہے جہاں جلسہ ہونا تھا تقریباً 13-12 سوکلومیٹر کا فاصلہ ہے۔راستے میں جہاں بھی جماعتیں تھیں وہاں سڑکوں پر استقبال کا انتظار کرتے ہوئے دیکھا۔وہی جوش اور جذ بہ، وہی پیار، وہی اخلاص جو ہر جگہ افریقن احمدیوں میں نظر آتا ہے، ان میں دیکھنے میں ملا۔عورتیں بچوں کو اسی طرح گود میں لئے ساتھ ساتھ کار کے دوڑ رہی تھیں اور بچوں کی توجہ میری طرف کرانے کی کوشش کر رہی تھیں تا کہ خلافت سے محبت ان کی زندگیوں کا حصہ بن جائے۔نائیجیریا میں بھی ہمسایہ ممالک نائیجر ، چاڈ اور کیمرون وغیرہ کے وفود آئے تھے۔نائیجر میں بھی گھانا اور بین کی طرح سرکاری افسران اور غیر از جماعت لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ہر ایک کا جماعت کے بارہ میں تاثر مزید نکھر کر ابھرا۔انہیں مزید جماعت سے آگاہی ہوئی جس کا انہوں نے اظہار بھی کیا۔نائیجیریا میں ان کی ایک بڑی کنگڈم ہے نیو بھتہ سٹیٹ میں۔اس کے امیر بڑے پڑھے لکھے آدمی ہیں، پی ایچ ڈی ہیں اور نائیجیریا کی سینٹ کے ممبر بھی ہیں۔انہوں نے بڑے اصرار سے مجھے اپنے علاقے میں یہاں سے چلنے سے پہلے بلوایا تھا کہ وہاں آؤں۔وہ دوسال سے جلسہ یو کے میں بھی شامل ہورہے ہیں۔بڑے پیار سے انہوں نے اپنا مہمان رکھا۔اپنے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا۔اپنی والدہ کی یاد میں لڑکیوں کا ایک سکول کھول رہے ہیں۔سکول تو چل رہا ہے لیکن بڑے وسیع پیمانے پر اس کو بنانا چا ہتے تھے۔اس کا سنگ بنیاد انہوں نے مجھ سے رکھوایا اور اس فنکشن میں بہت سے سرکاری افسران بھی تھے۔روایتی بادشاہ بھی تھے۔سیاسی لیڈر بھی تھے۔ممبر آف پارلیمنٹ بھی تھے۔اس کنگ (King) نے سب کے سامنے جماعت کی خدمات اور میرے سے ذاتی تعلق کا برملا اظہار کیا۔اللہ تعالیٰ ان کا سینہ مزید کھولے اور انہیں وہ جرأت عطا فرمائے جس سے وہ مسیح محمدی کی غلامی میں جلد سے جلد آ سکیں۔بہر حال ہم نے ہر قدم پر ہر جگہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی تائید و نصرت کی بارش دیکھی ہے۔کچھ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے اور رپورٹوں کے ذریعہ سے باتیں آپ کے علم میں آتی رہیں گی۔اللہ تعالیٰ تمام سعید روحوں کو سی محمدی کے ہاتھ پر جلد از جلد جمع ہونے کے نظارے ہمیں دکھائے۔